Saturday, 5 September 2015

AL-BANAAT Monthly -- September, 2015

ماہنامہ البنات کیوں؟


خواتین ہماری آبادی کا نصف ہیں اور اس اعتبار سے وہ ہرگز نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہیں، جبکہ ہمارے دین میں بھی انہیں ہر حیثیت سے قابل توقیر مقام حاصل ہے ۔ انہیں جو حقوق اسلام نے عطا کئے ہیں ،دُنیا کے ہر منصب اورہر معاشرے کی عورت ان سے محروم ہے۔ 
اگر تاریخ پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ عورت ہمیشہ سے تاریخِ انسانی کی صنف ِ مظلوم رہی -وہ مختلف تہذیبوں میں مختلف مسائل کا شکار رہی-قبل از اسلام دور میں بھی عورت کی حالت قابل رحم تھی، اسے انسان کے مرتبے پر ہی نہ سمجھا جاتا تھا- ان حالات میں حضور نبی اکرمﷺ اپنے ساتھ وہ نظام لائے جس میں عورت کو انسانیت کا شرف دیا گیا اور اسلام کا تصورِ عورت ان سب سے جدا اور حقیقت پر مبنی تھا اور فطرت کے ہم آہنگ بھی ،ہے بھی اور رہے گا بھی۔
اسلام نے مرد و عورت کو ایک اکائی اور ایک وحدت تصور کیا -انہیں حقوق اور اجر و ثواب اور عذاب و پاداش میں یکساں قرار دیا مگر ان کی فطرت کے موافق ان کے میدان الگ الگ رکھے – مگر جب یہ تعلیمات نظروں سے اوجھل ہونا شروع ہوئیں تو پچھلی صدی کے اوائل میںسیکولر سماج میں عورت اور اس کے مسائل پھر سے سر اٹھانا شروع ہوئے اور انہیں ایک خاص تناظر میں اجاگر کیا گیا۔ انسان کی نظر میں انسانوں کی تعداد بڑھی اور وسائل کم ہوئے -وسائل کی کمی، غربت کی زیادتی،اور بنیادی حقوق کی پامالی سے سب سے زیادہ متاثر خواتین کا طبقہ ہوا۔ – خواتین کا منظر نامہ مظلوم ،مقہور،مجبور،اور بنیادی حقوق سے محروم بنا، جس میں تعلیم، صحت، شادی، اظہارِ رائے کی آزادی، فیصلہ سازی جیسے اہم امور شامل ہیں -ان نا انصافیوں اور حقوق سے محرومیوں نےنا نہاد تحریک ِ آزادیٔ نسواں کی داغ بیل ڈالی لیکن یہ بھی حالات کی ستم ظریفی ہے کہ حقوق کے نام پر اُٹھنے والی تحریک کے ثمرات بھی آج کی عورت نہ پا سکی، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اس نے آخرکار عورت کو مزید محرومیوں کا شکار کر دیا۔یہ دینی علوم سے دوری اور بے خبری کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے اسلامی معاشرے کی بعض عورتیں بے بنیاد، غلط اور جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار ہوکر اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔حقوقِ آزادیٔ نسواں کی علم بردار خواتین اگر قرآن وحدیث کا بغور مطالعہ کریں تو انہیں یہ ضرور معلوم ہوجائے گاکہ مغرب کے دلفریب معاشرے کی نقالی اور مغربی عورت کی بے مقصد آزادی وبے پردگی حقوق نسواں نہیں، بلکہ اصلی حقوق وہ ہیں جو اسلام نے عورت کو ہر حیثیت میں دئیے ہیں ۔

 عورت نبی اور رسول نہیں لیکن نبیوں اور رسولوں کی ماں!!!

دینی تعلیم سے بے بہرہ بہت سی خواتین کو یہ ناگوار گزرتا ہے کہ اللہ نے نبوت اور رسالت کی ذمہ داری کسی عورت کو نہیں دی ،اس طرح (نعوذ باللہ) اللہ نے بھی مردوں کے ساتھ خصوصی امتیاز برقرار رکھا اور خواتین کو نبوت ورسالت کے لائق نہ جانا ، حالانکہ خواتین بھی یہ ذمہ داری ادا کرسکتی تھیں ۔ قابل غورہے کہ بیشک اللہ نے کسی عورت کو نبوت ورسالت سے مشرف نہیں فرمایا لیکن عورت کیلئے یہ اعزازکیا کم ہے کہ ماسوائے آدم علیہ السلام، ہر نبی اور رسول نے عورت کی کوکھ ہی سے جنم لیا ہے۔ عورت نبی اور رسول نہیں لیکن نبیوں اور رسولوں کی ماں ہے اور اس کیلئے یہ اعزاز بھی کیا کم ہے کہ انبیاء اور رسولوں کی بھی جنت اِسی(عورت بطورِماں) کے قدموں تلے ہے ۔
سیدنا عیسی علیہ السلام اللہ کے پانچ برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ فرما کر قرآن مجید میں مذکور فرمایا ہے ۔یہ بلند ترین مقام کے حامل پیغمبر بھی بالفاظ قرآنی اپنی والدہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
 ﴿وَبَراًّ بِوَالِدَتِی﴾(مریم:۳۲) یعنی میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں ۔
معلوم یہ ہوا کہ اللہ کے بلند رتبہ نبی اور رسول بھی اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت کرنے پر من جانب اللہ مامور ہیں۔ ایک دوسرے مقام پر بغیر کسی قسم کے استثنیٰ کے ارشاد ِربّ العالمین ہے  :
﴿وَقَضَی رَبُّکَ اَلاَّ تَعبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالوَلِدَینِ إِحسَانًا﴾(بنی اسرائیل :۲۳)
’’اور آپ کے رب نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ازلی اور ابدی ہے، اس میں تمام جن وانس بشمول اپنے تمام طبقات شامل ہیں یعنی ہر نبی ، ہر رسول ، ہر ولی ، ہر عابد وزاہد ، ہر متقی ، ہر اونچے سے اونچا اور ہر کم سے کم تر-- سب لوگ اس بات کے ہمیشہ کیلئے پابند کر دیئے گئے ہیں کہ عبادت وہ صرف اللہ کی کریں اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور اچھا برتاؤ کریں گے ۔
کاش کہ خواتین اس امر پر غور کریں کہ کیا دنیا کے کسی اور مذہب ومعاشرے میں خواتین کو یہ بلندی وسرفرازی اور یہ شان وشوکت اور یہ عظمت ورفعت حاصل ہے ،جو اسلام اوراسلامی معاشرے میں انہیں حاصل ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر اپنے معبود واحد ہونے کا فیصلہ کرنے کے بعد اُن پر دوسرا حق والدین کا بیان فرمایا، جن میں والدہ کا حق والد کے حق سے بڑ ھ کر ہے ۔ 

   ماہنامہ البنات کا مقصدِ اشاعت

ماہنامہ البنات کا مقصدِ اشاعت یہی ہے کہ ہماری عزت مند مائوں،عفت مآب بہنوں،عزیزالقدربیٹیوں،غرض تمام خواتین کواسلام کے نظام رحمت سے آگاہ کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش کی جائے۔ہماری کوشش رہے گی کہ خواتین اور طالبات اسلام میں اپنے حقوق سے بھی واقف ہوجائیں اور اپنے فرائض سے بھی۔ساتھ ہی اسلامی تعلیمات اُن تک پہنچائی جائیں۔ نیزاُنہیں یہ معلوم ہو جائے کہ ان کیلئے ایک بلندمرتبہ، عالی شان، معزز اور محترم مقام اگر اسلام نے انہیں ماں کی صورت میں عنایت کیا ہے، تو بحیثیت ِبیوی بھی وہ اپنے شوہر کی بادشاہت میں اُس کے گھر کی ملکہ، اُس کی عزت اور آبرو، اس کے دل کی راحت اور اُس کے بچوں کی معلمہ اور مربیّہ ہے ۔اِسی طرح ایک بہن اور ایک بیٹی کی حیثیت سے بھی عورتوں کی اپنی ایک خاص الخاص عظمت ہے،جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے انکو عطا فرمائی ہے۔
کاش کہ خواتینِ اسلام اپنے مقام ومرتبہ کو پہچانیں اور مغرب کی جھوٹی آزادی اور پرفریب نعروں سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق گزاریں ۔ یہی ہماری خواہش ہے اور یہی ماہنامہ البنات میں ہماری کوشش بھی رہے گی۔آج سے ۱۲ سال قبل جب ہم نے ماہنامہ الحیات     (اوائل 2002ءمیں)جاری کیا تھا،تو اُس وقت بھی ہمارے پیش نظر یہی مقصد تھا کہ فرقہ،مذہب، مسلک،مکتب ِ فکر،پارٹی، اورگروہ کے نام پر جاری تعصب و نفرت اور عصبیت و منافرت سے الگ تھلگ رہ کر خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ’’صاف و شفاف دین ِنبوی ‘‘کو سادہ،عام فہم اور عصری اسلوب میں عام مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جائے،اور یوں اللہ کا دین اللہ کے سادہ دِل بندوں تک پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کی جائے۔اللہ کا بے حدوحساب حمدو شکرہے کہ ایک نحیف وکمزورآواز کو اُس نے اپنےبے پناہ فضل و احسان سے نہ صرف توانا بنا دیا،بلکہCrescentکے بعد اب تیسرا دعوتی پرچہ ماہنامہ البنات جاری کرنے کی توفیق عنایت فرمائی،فالحمد للہ علیٰ ذالک۔اللہ کی رحمت سےاُمید ہے کہ ہماری مخلصانہ کاوش کو شرفِ پذیرائی حاصل ہوگا۔
اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کو اور ہماری عزت مند مائوں،ہماری عفت مآب بہنوں ، اورہماری عزیز القدر بیٹیوں کو ہدا یتِ الٰہی پر کاربند بنائے ۔ آمین
 دُعا گو ومحتاجِ دُعا۰۰۰۰۰۰خاکسار (ڈاکٹر)جوؔہر قد ّوسی[بانی مدیر ماہنامہ البنات]

==================================================================

معزز قارئین کی قابل قدر آراء اور بیش قیمت مشورے

بوستانِ خیال

مکاتیب ِ ذیل میں ظاہر کی گئی آراء سے ادارہ کا کلی یا جزوی اتفاق ضروری نہیں
ئ  عابدہ خاتون   ،کلاں محل،دہلی-۶   [بذریعہ  ای-میل]
’البنات‘ڈاک سے موصول ہوتا ہے۔اس پرچے نے طالبات اور خواتین کے دلوں میں بہت ہی قلیل مدت میں اپنے لیے جگہ بنا لی،جس کے لیے آپ مبارکبادی کی مستحق ہیں۔اللہ آپ لوگوں کودوجہان کی کامرانی نصیب فرمائے،آمین۔آ ج کی دنیا میں جہاں مرد وعورت کی مساوات، ان کی برابری اور آزادیٔ نسواں کا بڑا زور وشور ہے، ایسی دنیا میں لوگ یہ بات کرتے ہوئے شرماتے ہیں کہ شریعت نے مرد کو حاکم بنایا ہے اور عورت کو محکوم بنایا ہے ۔اس لئے کہ آج کی دنیا میں یہ پرو پیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مرد کی عورت پر بالا دستی قائم کر دی گئی ہے اور عورت کو محکوم بنا کر اس کے ہاتھ میں قید کر دیا گیا ہے اور اس کو چھوٹا قرار دے دیا گیا ہے ۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ مرد وعورت زندگی کی گاڑی کے دو پہئے ہیں ۔زندگی کا سفر دونوں کو ایک ساتھ طے کرنا ہے۔ اب زندگی کے سفر کے طےکرنے میں انتظام کی خاطر یہ لازمی بات ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک شخص سفر کا ذمہ دار ہو، اس لیے کہ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جب بھی دو آدمی کوئی سفر کر رہے ہوں، چاہے وہ سفر چھوٹا سا کیوں نہ ہو، اس سفر میں اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لو، امیر بنائے بغیر سفر نہیں کرنا چاہئے، تاکہ سفر کے تمام انتظامات اور پالیسی اس امیر کے فیصلے کے تابع ہو۔ اگر امیر نہیں بنائیں گے ،تو ایک بد نظمی ہو جائے گی ( ابو داؤد کتاب الجہاد حدیث ۲۶۰۸) لہٰذا جب ایک چھوٹے سے سفر میں امیر بنانے کی تاکید کی گئی ہے، تو زندگی کا ایک طویل اور لمبا سفر ،جو ایک ساتھ گزارنا ہے، اس میں تاکید کیوں نہیں ہو گی کہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لو، تاکہ بد نظمی پیدا نہ ہو، بلکہ انتظام قائم رہے۔ اس انتظام کو قائم کر نے کیلئے کسی ایک کو امیر بنا نا ضروری ہے۔
اب دو راستے ہیں :یا تو مرد کو اس زندگی کے سفر کا امیر بنا دیا جا ئے ، یا عورت کو امیر بنا دیا جائے اور مرد کو اس کا محکوم بنا دیا جائے ۔تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔اب انسانی خلقت ، فطرت ، قوت اور صلاحیتوں کے لحاظ سے بھی اور عقل کے ذریعے انسان غور کرے ،تویہی نظر آئیگا کہ اللہ تعالیٰ نے جو قوت وطاقت مرد کو عطا کی ہے ، بڑے بڑے کام کرنے کی جو صلاحیت مرد کو عطا فر مائی ہے، وہ عورت کو عطا نہیں کی ۔ لہٰذا اس امارت اور سربراہی کا کام صحیح طور پر مرد ہی انجام دے سکتا ہے اور اس کے لئے اپنی عقل سے فیصلہ کرنے کی بجائے اس ذات سےپو چھا جائے، جس نے ان دونوں کو بنایا اور پیدا کیا کہ آپ نے دونوں کو سفر پر روانہ کیا، آپ ہی بتائیں کہ کس کو امیر بنائیں اور کس کو مامور بنائیں ؟ اور سوائے اس فیصلے کے کسی اور کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہو سکتا ،خواہ وہ فیصلہ عقلی دلائل سے آراستہ ہو ۔اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فر مادیا کہ اس زندگی کے سفر کو طے کر نے کیلئے مرد قوام، حاکم اور منتظم ہیں۔ اگر تم اس فیصلے کو صحیح جانتے ہو اور مانتے ہو، تو اسی میں تمہاری کامیابی اور سعادت ہے اور اگر نہیں مانتے بلکہ اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہو اور اس کے ساتھ بغاوت کرتے ہو، تو پھر تم جانو، تمہارا کام اور تمہاری زندگی جانے۔ تمہاری زندگی خراب ہوگی اور ہورہی ہے۔ جن لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف بغاوت کی ان کا انجام دیکھ لیجئے کہ کیا ہوا؟ ۔البتہ اللہ تعالیٰ نے جو لفظ یہاں استعمال فر مایا، اس کو سمجھ لیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں امیر ، حاکم ، باشاہ کا لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ قوام کا لفظ استعمال کیا۔ قوام کے معنیٰ وہ شخص، جو کسی کام کا ذمہ دار ہو، اور ذمہ دار ہو نے کے معنیٰ یہ ہیں کہ بحیثیت مجموعی زندگی گزارنے کی پالیسی وہ طے کرے گا اور پھر اس پالیسی کے مطابق زندگی گزاری جائیگی ،لیکن قوام ہونے کے یہ معنیٰ ہر گز نہیں کہ وہ آقا ہے اور بیوی اس کی کنیز ہے یا بیوی اس کی نوکر ہے، بلکہ دونوں کے درمیان امیر مامور، حاکم اور محکوم کا رشتہ ہے اور اسلام میں امیر کا تصوریہ نہیں ہے کہ وہ تخت پر بیٹھ کر حکومت چلائے، بلکہ اسلام میں امیر کا تصوروہ ہے، جو حضور اقدس ﷺ نے فر مایا کہ سَیِّد الْقَوْمِ خَادِمُھُمْ قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے ( کنز العمال حدیث نمبر ۱۷۰۱۷)لہٰذا امیر کے معنیٰ یہ ہیں کہ بیشک فیصلہ اس کا معتبر ہو گا، ساتھ ہی وہ فیصلہ ان کی خیر خواہی کیلئے ہو گا ،ان کی خدمت اور راحت کیلئے ہوگا۔
ئ                     آصفہ تبسم،پونچھ،(جے اینڈ کے)    [بذریعہ  ای-میل]
میں’البنات‘کی مستقل خریدار بننا چاہتی ہوں۔اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا۔[اُمید ہے کہ ای-میل سے جواب مل گیا ہوگا]۔ایک پڑوسن کے پاس جولائی کا شمارہ نظر آیا۔دل خوش ہوا۔وہاں سے ای-میل ایڈریس نوٹ کرلیا۔سردست ’عالمی یوم حجاب‘کے حوالے سےایک مختصر سی تحریر بھیج رہی ہوں،امید کہ شائع فرمائیں گے۔
شرعی پردہ/حجاب کیا ہے؟
پردہ (حجاب) میں تمام جسم ہاتھ اور چہرہ سمیت چھپانا ضروری ہے اور یہ اس طرح ہو کہ جسم کے اعضا نظر نہ آئیں۔ چادر یا برقعہ چست نہ ہو اور لوگوں کو مائل کرنے والا نہ ہو۔ خوشبو لگا کر نہ نکلا جائے۔ لوچ دار ،شیریں، یعنی مردوں کو راغب کرنیوالی آواز، پاؤں کی جھنکار او ردلکش اداؤں سے پرہیز کیا جائے مرد اور عورتیں دونوں نگاہیں نیچی رکھیں۔ حدیث ِنبویؐ ہے: "نظر بازی آنکھوں کازنا ہے"(بخاری)  
E-mail : editoralbanaat@gmail.com

اہم مسائل پر’البنات‘کا ادارتی نقطۂ نظر


 نوید ہو کہ سحر قریب ہے!!!

باپردہ عورتوں میں یہ تڑپ پیدا ہورہی ہے کہ ہم اپنے تحفظ کے لیے کچھ کریں

 پوری دنیا میں۴ستمبرکو عالمی یوم حجاب منایا جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب تک توسیع پسند سرمایہ دارانہ ذہنیت کے حامل غیرمسلموں نے مسلمان ملکوں پر قبضہ نہیں کیا تھا، مسلمان معاشرہ کی عورت بڑے اعتماد سے گھروں سے نکلتی تھی، اس کا وقار حددرجہ بلند تھا، اس کو بے عزت کرنے کی کوشش کرنے والا خود بے عزت ہوجاتا تھا۔ پہلے مغربی ثقافت و تہذیب نے مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کو اپنے زیر اثر لیا اور پھر ان کے ذریعہ مسلمان ملکوں کے عوام کو بے پردہ کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے شاہ امان اللہ نے یہ کوشش کی، جو برطانوی راج کے زیر اثر تھا، لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی۔ شاہ ایران نے یہ کام کیا لیکن ایران آج حجاب کے اعتبار سے ایک بار پھر صف ِ اوّل کے اسلامی ممالک میں شامل ہے۔ اسی طرح عراق‘ شام اور انڈونیشیا میں بھی یہ کوشش ہوئی اور مسلمان خواتین کو حجاب سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک مخلوط معاشرہ جگہ جگہ قائم کردیا گیا، لیکن امت مسلمہ کی قابل احترام بیٹیوں اور ماؤں سے حجاب نہیں اتروایا جاسکا۔ ترکی میں تو آج تک انگریز کے پروردہ مصطفی کمال پاشا کے اثرات ہیں، اب بھی ترک خواتین سرکاری اسکولوںمیں حجاب نہیں لے سکتیں۔ خود صدر طیب اردغان کی اہلیہ کسی سرکاری تقریب میں محض اس لیے نہیں جاتیں کہ وہ اسکارف لیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکی کی طاقتور مسلح افواج ابھی تک سیکولر ازم کی پرستش کرتی ہیں۔
آج ساری دنیا میں عالمی یوم حجاب۴ستمبر کو منایا جاتا ہے، تو ہمیں بے اختیار’ شہیدہ حجاب‘ مروا شیرینی یاد آتی ہیں۔ مغرب نے عور ت کا جو استحصال کر رکھا ہے، باپردہ‘ باحیا ،پراعتماد مسلمان عورت کو اسکارف کے ساتھ پرسکون دیکھ کر ان کی عورتوں میں یہ تڑپ پیدا ہورہی ہے کہ کیوں نہ ہم اپنے تحفظ کے لیے کچھ کریں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، برطانوی شاہی خاندان اور لارڈز کی بیگمات اور مالدار لوگوں کے گھر کی عورتیں بھی ایک پردے کے ساتھ گھروں سے نکلا کرتی تھیں۔ ان کی سواریاں الگ ہوا کرتی تھیں، حتیٰ کہ 1960 ءکے عشرے تک برطانوی فلموں میں عورت ایک ہلکے حجاب کے ساتھ اسکرین پر آتی تھی کیونکہ اس وقت ان کے معاشرے میں حجاب کلچر مضبوط تھا، اب تووہاںیہ جڑوں سے اکھڑ چکا ہے، وہ مسلم معاشروں میں بھی اسے جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں، تاکہ کہیں ان کی عورت اسے دیکھ کر اپنے آپ کو اسلام میں محفوظ نہ سمجھنے لگے۔ گویا یہ ساری پابندیاں اس لیے ہیں کہ مسلمان عورت کو بے پردہ کردو۔حجاب کے بارے میں ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ مسلمان عورت کے لیے قید ہے، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی تو پہلے ہی قید میں ہے، اس نے تو وہاں بھی یہ حجاب نہیں چھوڑا تھا، اس کے سر سے بھی بھری عدالت میں یہ حجاب نوچا گیا۔ عافیہ کا حجاب کیوں نوچا گیا؟ وہ تو قیدی ہے اور قید تنہائی میں ڈال دی گئی ہے، لیکن عدالت میں کسی انسانی حقوق کے چیمپئن کو محسوس نہیں ہوا کہ اسے نہ صرف اسکارف سے محروم کیا گیا ،بلکہ جب اس نے عدالت میں اپنے بھائی کی طرف مڑ کر دیکھنا چاہا تو اس کے منہ پر سارجنٹ نے تھپڑ مار دیا اور چہرہ دوسری طرف گھما دیا۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب سب کو معلوم ہے، لیکن زبان سے نہیں نکلتا کیونکہ اسکارف میں، حجاب میں، پردے میں، برقعہ میں مغربی تہذیب کی موت چھپی ہوئی ہے۔ اگر حافظہ قرآن قیدی ڈاکٹر عافیہ حجاب کی حالت میں عدالت آتی رہتی تو اس کو دیکھنے والی امریکی خواتین پر اس کے اثرات ضرورت پڑتے۔ حجاب تو اسلام کی ایسی علامت ہے کہ اس نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، پورا امریکا متزلزل ہے اور خود اسلامی ممالک میںبھی یورپ اور مغرب کے ایجنٹ حکمران اس سے پریشان ہیں۔
اپنے یہاں دیکھیے تو صاف اندازہ ہورہا ہے کہ یہاں بھی منظربدل رہا ہے‘ہماری بہت بڑی تعداد زندگی کے ہر میدان میں باطل قوتوں کو لرزہ بر اندام کئے ہوئے ہے،اور یقین رکھتی ہے کہ  حجاب ہمارا فخر بھی ہے اور حق بھی۔یہ ایک تکریم ہے جوہمارے رب نے ہمیں دی ہے اور اسکا ذائقہ بے حجاب عورت کو نصیب نہیں ہے۔حجاب ہمارا وقار بھی ہے اور ہمارا اسلحہ بھی ،جو ہمیں کردار کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ہمارے یہاںاسکول،کالج،اور یونیورسٹی سطح کےامتحانی نتائج میں پوزیشن لینے والی طالبات کی اکثریت کا با حجاب ہونا ،بہت ساری با حجاب لڑکیوں کا مسابقتی امتحانات اورزندگی کے دیگر میدانوں میں اپنی شاندار فتح کے جھنڈے گاڑنا اور سماجی برائیوں وحجاب پر پابندیوں کے خلاف صف آرا ہوجانا-- وہ علامات ہیں،جو صبح ِ انقلاب کے ماتھے کی روشنی بن کر نوید دے رہی ہیں کہ سحر قریب ہے،ان شاء اللہ۔[مدیرہ]
=============================================================

---محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کے دروس القرآن سے انتخاب پر مبنی سلسلۂ مفہوم القرآن---

گُلِسـتــــانِ ہِــدایـتـــــــــــــ

ہدایت پانے کے لیے ضروری چیز: تقویٰ

حقیقت میں تقویٰ دل کی کیفیت اور دل کے احساسات کا نام ہے

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ 
الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ذٰلِکَ  الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی  لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ  مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ  یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ  اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾اِنَّ الَّذِیۡنَ  کَفَرُوۡا سَوَآءٌ  عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ  اَمۡ  لَمۡ  تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ  وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ٪﴿۷﴾
ا ل م، یہ کتاب جس میں کوئی شک نہیںتقویٰ والوں کو  ہدایت  دینے کے لیے ہے۔ہدایت پانے کے لیے ضروری چیز: تقویٰ:گویا جو شخص ہدایت مانگتا ہے، اسے اپنے اندر ایک صفت پیدا کرنی ہو گی اور وہ صفت تقویٰ کی ہے۔ جو شخص اس صفت سے متصف ہو گا، اس کو اللہ کی کتاب بہت فائدہ دے گی۔ اس کے لیے حق و باطل میں فرق کرنے کی اندرونی بصیرت پیدا ہو گی۔

تقویٰ کیا ہے ؟:

کیونکہ تقویٰ دل کی کیفیت اور دل کے احساسات کا نام ہے۔ تقویٰ احتیاط کی زندگی کا نام ہے۔ تقویٰ اس دنیا کی زندگی میں غلط کاموں سے، حرام کاموں سے اور شک میں ڈالنے والے امور سے بچ بچ کر چلنے کا نام ہے۔ جو شخص احتیاط کی زندگی بسر کرتا ہے اور دوسروں کے لیے وہی چاہتا ہے، جو اپنے لیے چاہتا ہے، جو شخص اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے، ایسا شخص حقیقت میں سنجیدہ انسان ہوتا ہے۔ اس کی نیت درست ہوتی ہے اور وہ اپنے ارادوں میں مضبوط ہوتا ہے، اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بھی اپنا راستہ دکھا تے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جن کی زبان اور دل باہم موافقت نہ کریں، جو اوپر سے کچھ اور اندر سے کچھ ہوں، جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہوں، انہیں اس کتاب سے زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔

متقین کی صفات:

اس لیے متقین کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی’’جو غیب پر ایمان لاتے ہیں‘‘۔ ایمان بھی دل کی کیفیت کا نام ہے، اور تقویٰ ہم سے سب سے پہلے ایمان لانے کا مطالبہ کرتا ہے، اور ایمان بھی کس پر؟ غیب پر، ان حقیقتوں پر جنہیں ہم نے دیکھا نہیں، جنہیں ہم نے سنا نہیں۔ ان سب چیزوں پر ایمان۔ اور کس طرح ؟ اور وہ کون سی چیزیں ہیں؟ مثلاً آخرت سے متعلق جتنے امور ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات، وحی الہیٰ--- یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہم تک پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی زبانی پہنچائیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ بعض اوقات ہم ان کو زبان سے مانتے بھی ہیں لیکن ان کی لائی ہوئی بات کو مانتے نہیں ہیں۔ ایک ڈاکٹر کی بات پر اعتماد کرتے ہیں۔ کبھی اس کی ڈگری نہیں مانگتے۔ ایک سائنسدان کی بات پر یقین رکھتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کی تھیوریز کو پڑھتے ہیں اور اس کے مطابق آگے چلتے ہیں۔ لیکن ایک اللہ کے رسولﷺ کو جو صادق اور امین تھے، ان پر اور ان کی لائی ہوئی غیب کی حقیقتوں پر ایمان لاتے ہوئے بعض اوقات ہم اپنے آپ کو زبان سے مسلمان کہنے والے بھی شک میں پڑ جاتے ہیں۔ جو لوگ شک کے ساتھ اس کتاب کو لیں، وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پا سکتے۔ ہدایت انہی کے لیے ہے جو غیب کی سطح پر ایمان لانے والے ہوں۔ اور جب وہ ایمان لے آئیں تو انہیں جھکنے میں کچھ مشکل نہ ہو۔ ان کا ایمان ان کے اندر کی ایسی پکار ہو کہ وہ نماز قائم کرتے ہوں اور اللہ کے آگے جھکتے ہوں۔ پھر انہیں جھکنے میں کچھ مشکل نہیں ہوتی کیونکہ انہوں نے اللہ کو اپنا رب مان لیا، محمد ﷺ کو اپنا رسول مان لیا۔ آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے جو کچھ اللہ کی طرف سے آتا ہے، اس پر عمل کرتے چلے جاتے ہیں۔

عمل میں سب سے پہلی چیز:

اور عمل کرنے کی چیزوں میں سب سے پہلی چیز نماز ہے۔ آخرت میں سب سے پہلے حساب نماز کا ہو گا ،اور ایسے لوگ وسیع دل کے ہوتے ہیں۔ وہ خیر اور بھلائی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتے۔ کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا رب ایک دن ہم سے ان سب چیزوں کا حساب لے گا۔ وہ خود غرض نہیں ہوتے۔ وہ صرف اپنا فائدہ نہیں چاہتے۔ وہ خود کو ملنے والے رزق کو دوسروں پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ پھر ان کی نگاہ دنیا پر ٹکی نہیں رہ جاتی۔ پھر وہ آخرت کا سودا کر لیتے ہیں۔ اس لیے ان کے دلوں سے دنیا کی اہمیت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
[ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ] اور وہ صرف قرآن کو نہیں مانتے بلکہ ان تمام چیزوں کو مانتے ہیں جو آپﷺ کی طرف نازل کی گئیں ،خواہ وہ قرآن کی شکل میں ہیں یا حدیث کی شکل میں۔ [ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ]جو کچھ بھی آپﷺ کی طرف اتارا گیا، خواہ الفاظ کی شکل میں، خواہ دوسری رہنمائی کی شکل میں۔ [وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ]اور جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا، یعنی دیگر انبیاء پر۔

مؤمن وسیع دل اور سوچ کے مالک:

گویا وہ وسیع دل اور وسیع سوچ کے مالک ہوتے ہیں، تنگ نظر نہیں ہوتے۔ وہ صرف اپنی کتاب کو نہیں مانتے، پچھلی کتابوں اور پچھلے رسولوں کو بھی مانتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر دور میں انسان کی رہنمائی کے لیے بہترین انتظام کیا۔ [ وَبِالآخِرَةِ هُمْ یُوقِنُونَ ] وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک دن انہیں اللہ کے حضور پلٹنا ہے۔

عقل مند اور کامیاب انسان:

حقیقت میں کامیاب انسان وہی ہوتا ہے، جو اپنے انجام اور انتہا کو دیکھ کرسفر کا آغاز کرے۔ ذرا سوچیے! کسی ایسے انسان کے بارے میں جو سفر کا آغاز تو کر دے ،لیکن اسے پتہ نہ ہو کہ اس کو جانا کہاں ہے ؟مثلاً آپ اپنے گھر سے نکلیں اور آپ کو پتہ نہ ہو کہ آپ کو پہنچنا کہاں ہے ؟ تو آپ اپنی گاڑی کو ادھر اُدھر گھما کر ایسی جگہ جا پہنچیں گے، جہاں پہنچنے کا آپ کو کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن جو شخص گھر سے ایڈریس لے کر نکلتا ہے، سوچ کر نکلتا ہے، وہ مخصوص راستوں پر چلتا ہوا اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ تو وہ لوگ جو آخرت کو سامنے رکھ کر جیتے ہیں اور وہ لوگ جو آخرت کو بھلا کر جیتے ہیں، ان دونوں کی زندگی میں بھی بہت فرق ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہے، جو اپنے مقصد کو ہر آن اپنے سامنے رکھتا ہے، وہ اپنے وقت کو ضائع نہیں کرتا۔ وہ اپنی جسمانی صلاحیتوں کو ضائع نہیں کرتا۔ وہ اپنے مال کو ضائع نہیں کرتا۔ وہ ہر چیز کو سوچ سمجھ کر، آخرت کو سامنے رکھ کر، حساب کر کے استعمال کرتا ہے کیونکہ اس کو پورا یقین ہے کہ مجھے یوم الدین کی طرف لوٹنا ہے، جہاں جزا بھی ہے اور سزا بھی۔ جزا اچھے کاموں پر ہے اور سزا برے کاموں پر۔ اسے یہ شک نہیں کہ سزا اچھے کاموں پر ہو گی اور اسے یہ شک بھی نہیں کہ جزا برے کاموں پر بھی مل سکتی ہے۔ نہیں! اس کی سوچ بالکل واضح ہے۔ وہ اچھائی اور برائی میں فرق کرنا بہت اچھی طرح جانتا ہے۔ [ أُوْلَئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ] یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت پر ہیں۔ جن کے اندر ایسی صفات ہیں۔ اور ایسے ہی لوگ [وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ] وہ کامیاب ہونے والے اور فلاح پانے والے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص نقصان سے ڈرتا ہے۔ لیکن حیرت ہوتی ہے کہ وہ کام نہیں کرتا، جو انسان کو کامیابی کی طرف لے جانے والے ہیں۔

کافر حق کے انکاری کیوں ہوتے ہیں؟:

اس کے برعکس کچھ اور لوگ بھی ہیں اس دنیا میں،جنہوں نے ان باتوں کو ماننے سے انکار کر دیا تو ان کے لیے برابر ہے کہ خواہ تم انہیں خبردار کرو، یا نہ کرو، وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ کیوں نہیں مانتے ؟ آپ دیکھئے کہ جب روشنی ہوتی ہے، اچھائی اور برائی کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی ہی آنکھیں بند کر لے تو اس کو پھر کوئی بھی چیز نظر نہیں آئے گی، نہ اچھائی نظر آئے گی اور نہ برائی۔ تو انکار کرنے والوں کی نفسیات بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ جنہیں ماننا نہیں ہوتا ،وہ سورج کی روشنی کے سامنے بھی آنکھیں بند کر کے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ دن کو رات کہنے کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی آنکھیں بند ہیں۔ حق سورج سے بھی زیادہ روشن ہوتا ہے لیکن جو لوگ اپنی آنکھیں بند کر لیں، جو دل کے دروازے بند کر لیں، جو تعصبات میں گھر جائیں، ان کو پھر حق نظر نہیں آتا، اس لیے وہ پھر کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو آپ خواہ کسی بھی طرح سمجھائیں، وہ مان کر نہیں دیتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی انہیں پھر سزا دیتے ہیں ۔اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔

ایسا کیوں ہوا؟:

کیونکہ انہوں نے نہ اپنے دل استعمال کیے، نہ اپنے کان استعمال کیے اور نہ اپنی آنکھیں استعمال کیں کہ حق موجود تھا لیکن اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ اور ان کے لیے عظیم عذاب ہے، بہت بڑا عذاب ہے۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی نا قدری کی۔ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی۔ ان صلاحیتوں کو اُن کاموں میں استعمال کیا ،جن میں حقیر دنیا کے فائدے تھے۔ ان کی ساری کوششیں اور ساری محنت صرف دنیا میں لگی رہی، اور وہ حقیقت کو نہ پا سکے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور ہمیں کہاں جانا ہے۔ انہوں نے اندھے بہرے بن کر زندگی بسر کی۔ لہٰذا وہ اللہ کی نعمتوں کو نہ پا سکے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ وہ عذاب ہی کے مستحق ہیں۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ایمان افروز دینی جرائد:الحیاۃ+البناۃ
خود بھی پڑھیں ،دوسروں کو بھی پڑھائیں
-----------------------------------------------------------------------------------------------

پیغام قرآن حلقۂ درس قرآن ،کویت کے تجربات کی روشنی میں 

قرآن سے استفادہ کا درست طریقہ

  ----------------------------عربی   :محترمہ سُمیّہ رمَضان [اُردو ترجمہ:ظہیرالدین]
قرآن مجید کا مطالعہ یہ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ یہ پڑھنے والے سے براہ راست خطاب ہے اور انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کی کنجی یہی کتاب ہے۔ انسان کی حالت خواہ کیسی ہی خراب کیوں نہ ہو، یہ کتاب اسے بدل سکتی ہے۔ قرآن پڑھنے والا اگر یہ شعور رکھتا ہے تو اسے قرآن مجید سے استفادے کا طریقہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ یہی احساس اس میں تبدیلی لانے کے لیے کافی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارا قرآن خوانی کا طریقہ صدیوں سے ایسا چلا آ رہا ہے کہ ہم قرآن سے صحیح معنوں میں استفادے سے محروم ہیں، گویا صدیوں سے ہمارے مسلسل غلط طرزِ عمل نے ہمارے اور قرآن شریف کے نفع پہنچانے کے مابین ایک نفسیاتی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔
اگر ہم قرآن شریف سے واقعی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں درج ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:

1: قرآن مجید سے دلچسپی

قرآن مجید سے ہمارا تعلق اتنا مضبوط ہو، ہمیں اتنی دلچسپی ہو کہ یہ ہماری تمام تر توجہات کا مرکز بن جائے۔ ہماری اولین ترجیح یہی ہو۔ خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہم روزانہ باقاعدگی سے اس کی تلاوت کریں۔ ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں، اس کے لیے ہر حال میں وقت نکالیں۔ یاد رہے کہ مطالعہ قرآن کے نتیجے میں‌ ہونے والی تبدیلی کی رفتار تیز نہیں ہوتی۔ یہ تبدیلی بتدریج آتی ہے۔ مطالعہ قرآن کا عمل تب ہی ثمر آور بنتا ہے جب اسے تسلسل و دوام کے ساتھ کیا جائے اور ہمارا ایک دن بھی قرآن کریم کی زیارت و ملاقات کے بغیر نہ گزرے۔ ہم جتنا قرآن کو وقت دیں گے، اتنا ہی وہ ہمیں نفع دے گا۔ جو خوش نصیب دن میں کئی بار قرآن شریف کا مطالعہ کرتا ہے وہ کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ قرآن کے لفظ و معنی دونوں ہی سے استفادہ کرنا چاہیے۔

2: مناسب جگہ

قرآن شریف کے ذریعے تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے مطالعے کے لیے موزوں و مناسب جگہ منتخب کریں۔ ہم ایک معزز مہمان کا استقبال اپنے گھر میں جس طرح کرتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر قرآن کا خیر مقدم کریں۔ شور و شغب سے خالی پُر سکون جگہ میں قرآن کریم سے ملاقات کریں۔ اس سے حسنِ فہم میں مدد ملتی ہے۔ گوشہ تنہائی میسر ہو تو از بس غنیمت ہے۔ ہم وہاں بیٹھ کر دورانِ مطالعہ اپنے احساسات کا بخوبی اظہار کر سکتے ہیں۔ تنہائی میں رونے، آنسو بہانے، دعا کرنے اور سبحان اللہ کہنے میں خاص لطف آتا ہے۔ قاری متعلقہ آیات کے مطابق اپنی باطنی کیفیت کے اظہار کا موقع پاتا ہے۔ [جاری]

8888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

طبقۂ نسواں کے محسن اعظمﷺکےفرامین واحادیث

  اللہ تعالیٰ کا حلم

عملی زندگی میں رہنمائی کے لیے احادث ِمبارکہ سے عطربیزانتخاب

----------------------------------------------------------- ترتیب:ڈاکٹر بتول فاطمہ(ادارۂ تحریر)
ترجمہ:حضرت ابو موسٰی اشعری کہتے ہیں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ تکلیف دہ بات کو سن کر اس پر صبر (اور برداشت کرنے اور سزا  نہ دینے )میں کوئی اللہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے  ہیں اور وہ پھر بھی ا ن کو (مہلت دیتا ہے اور )عافیت اور رزق دیتا ہے‘‘۔(بخاری و مسلم) 
عن ابی ھریرۃ قال قال رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اللہ عزو جل یؤذینی ابن آدم یسب الد ھروانا الدھر بیدی الامراقلب اللیل والنھار                                                                                   (بخاری ومسلم )
حضرت ابو ھریرہ  رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں، اللہ عزو جل نے ارشاد فرمایا :’’ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے۔ دہر اور زمانہ کو برا کہتا ہے، حالانکہ زمانہ (کچھ نہیں وہ )تو میں ہی ہوں (کیونکہ حقیقت میں )سب تصرفات میرے قبضہ میں ہیں (اور ) شب و روز کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے‘‘۔
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اللہ تعالی کذبنی ابن آدم ولم یکن لہ ذٰلک وشتمنی ولم یکن لہ ذٰلک فاما تکذیبہ ایای فقولہ لن یعیدنی کما  بدانی ولیس اوّل الخلق با ھون علیّ من اعادتہ واما شتمہ ایای فقو لہ اتخذ اللہ ولد ا وانا الاحدالصمد الذی لم الد و لم أولد ولم یکن لی کفوا احد۔(بخاری)
حضرت ابو ہریرہ  سے روایت ہے ،ر سولﷺ نے فرمایا:’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں‘: ’’ابن آدم نے مجھے جھٹلایا ،حالانکہ ایسا کرنا اس کے مناسب نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کے لیے جائز نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ جیسا میں نے اس کو ابتدا میں پیدا کیا، دوبارہ میں اس کو پیدا نہ کروں گا (اور آخرت کچھ نہ ہو گی)حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا مجھ پر دوسری دفعہ پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے (بلکہ میرے لیے دونوں یکساں ہیں، جب کہ لوگوں کے لیے دوسری دفعہ کے مقابلے میں پہلی دفعہ کوئی چیز بنانا مشکل ہوتا ہے)اور اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے(اپنے لیے ) بیٹا بنا لیا ہے، حالانکہ میں یکتا ہوں اور بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا (یعنی نہ میں نے اپنی کوئی اولاد بنائی ہے )اور نہ ہی میں جنا گیا ہوں (یعنی نہ ہی میں کسی کی اولاد ہوں )او ر کوئی بھی میرے جوڑ کا نہیں ہے (کہ وہ خدائی میں میرا شریک ہوسکے)‘‘۔

شوہر کی اطاعت :چند احادیث 

الله تعالیٰ نے شوہر کا بڑا حق بتایا ہے اور اس کو بہت بزرگی دی ہے۔شوہر کو راضی کرنا اور خوش کرنا بڑی عبادت ہے۔ اور شوہر کو ناخوش کرنا اور ناراض کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کہ جو عورت پانچوں وقت کی نماز پڑھتی رہی اور رمضان المبارک کے روزے رکھتی رہی اور اپنی عزت وآبرو کو بچاتی رہی ،یعنی پاک دامن رہی اور شوہر کی تابع داری اور فرماں برداری کرتی رہی، تو اس کو اختیار ہے کہ جس دروازہ سے چاہے، جنت میں چلی جائے۔(مشکوٰة 281)
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جس عورت کی موت اس حالت میں آئے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنتی ہے۔ ( مشکوٰة ص 281، ترمذی ص219)
حضور اکرمﷺ نے فرمایا: کہ اگر میں خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کے لیے کہتا تو عورت کو ضرور حکم دیتا کہ اپنے میاں کو سجدہ کیا کرے۔ (مشکوٰة ص281، ترمذی ص 219)  

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

رحمۃ للعٰلمینؐ کےاسوۂ حسنہ و کاملہ سے رہنمائی

تورات وانجیل میں نبوتؐ کی بشارت

صاف لکھا ہے کہ آپ  ﷺکی شریعت ہی قیامت تک باقی رہے گی

 [ واقعاتِ سیرتِ طیّبہ، سلسلہ وار ]------------------------اخذو ترتیب : اسماء  [ادارۂ تحریر]
سیّدناکعب احبار ؓ (جو کہ سابقہ یہودی عالم تھے) بیان کرتے ہیں کہ :
ہم نےتورات میں محمّد ﷺکےبارے پڑھا ہے کہ وہ اللہ کے رسول اور برگزیدہ بندے ہوں گے، نہ تیز مزاج اور نہ سخت دل ہوں گے، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والے، نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے بلکہ درگزر اور معاف کرنے والے ہوں گے۔ مکہ میں پیدا ہوں گے اور (مدینہ) طیبہ کی طرف ہجرت کریں گے۔ ان کی حکومت شام تک پھیلی ہو گی اور ان کی امت(اللہ عزّوجل کی) خوب حمد و ثنا بیان کرنے والی ہو گی۔ وہ ہر خوشی، غم اور ہر حال میں اللہ عزّوجل کی حمد و ثنا بیان کریں گے، ہر بلند مقام پر اللہ کا نام اونچا کریں گے۔سورج (کے طلوع و غروب) کا خیال رکھیں گے۔ نماز کو وقت پر ادا کریں گے، اپنے ازار(تہبند) پنڈلیوں تک رکھیں گے،اعضائے وضو دھوئیں گے، ان کا مؤذن بلند مقام پراذان کہے گا۔ جنگ اور نماز کی حالت میں ان کی صفیں ایک جیسی ہوں گی۔ رات (کےاوقات) میں (ذکر و تلاوت کے دوران) ان کی آواز پست ہو گی، جیسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے۔(دارمی)
 میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تجھ ساایک نبی (محمّد  ﷺ) بر پا ( مبعو ث ) کر و ں  گااور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں ( پیش کروں )گا اور جو کچھ بھی میں اسے فرماؤں( حکم دوں ) گا وہی کچھ وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جنکو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں اس سے اس کا حساب لوں گا۔ (استثنا، ب18: 18۔19)
 (اللہ کا آخری نبی محمّد  ﷺ) فاران (مکہ) کی پہاڑیوں سے دس ہزار قدوسیوں (صحابہ ؓ )کے ساتھ جلوہ گرہوا۔(پیدائش، ب20-17)
وہ (نبی  ﷺ) عربی ہو گا، اس (نبی  ﷺ) کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کا ہاتھ اس کے خلاف ہوگا۔(پیدائش،ب13-16)
اِنجیل میں آپ ﷺکی رسالت کی بشارت
سیّدناعیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو فارقلیط کے نام سے آپ  ﷺکی بشارت سناتے تھے، جس کا معنیٰ محمّد یا احمد( ﷺ) ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
اور(وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ( علیہ السلام )نے کہا: اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف (بھیجا ہوا) اللہ کارسول ہوں ۔ مجھ سے پہلے جو (کتاب) تورات نازل ہو چکی ہے، میں اس کی تصدیق کر نے والا ہوں اورایک رسول کی خوشخبری بھی دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد(  ﷺ) ہو گا پھر جب وہ (رسول ﷺ) ان کے پاس کھلی نشانیاں(معجزات)لے کر آئے تو انہوں نے کہا :یہ تو کھلا جادو ہے ۔ (الصف 61 : آیت 6)
عیسیٰ علیہ السلام نے فارقلیط(آپ  ﷺ)کے جو اوصاف ذکر کئے ہیں ،وہ تمام کے تمام آپ  ﷺپر صادق آتے ہیں کہ وہ پوری دنیا والوں کو گناہوں سے روکے گااور انہیں حق سکھائے گا اور وہ صرف وہی دین بتائے گا ،جو بذریعہ وحی اسےدیاجائےگا۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: اور وہ (نبی  ﷺ) اپنی مرضی سے نہیں بولتے وہ وہی بیان کرتے ہیں جو انہیں وحی کی جاتی ہے۔ (النجم53 :آیات 3تا4)
رسول اکرم ﷺنے فرمایا: اللہ ربّ ا لعزّت نے سیّدنا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو وحی کے ذریعہ اطلاع دی کہ میرے حکم کےبارے میں سنجیدہ رہواورمذاق نہ کرو، اے نیک عورت کے بیٹے، غور سے سنو اور اطاعت کرو۔ میں نے تمہیں بغیرباپ کے پیداکیاہے، اس لئےکہ تم تمام لوگوں کے لئے میری نشانی بن جاؤ۔ صرف میری عبادت کرو اور مجھ ہی پر توکل کرواور اپنی قوم پر یہ واضح کردو کہ اللہ تعالیٰ حق ہے جسے کبھی موت نہیں آتی۔ عربی نبی (محمّد ﷺ) کی تصدیق کرو، جن کے بال  گھنگھریالے، پیشانی کشادہ ،آبروملے ہوئے، آنکھیں سیاہ ، رخسار سفید اورگھنی داڑھی ہو گی۔ان کے چہرہ اقدس پر پسینہ موتیوں کی طرح اور اس کی خوشبو مشک کی طرح،گردن چاندی کی صراحی کی طرح حسین، ہنسلی کی ہڈیاں سونے کی طرح خوبصورت، سینہ سے لے کر ناف تک انتہائی خوبصورت بال ، پاؤں اور ہتھیلیاں گوشت سے بھری ہوئی ہوں گی اور شخصیت اتنی بارعب ہو گی کہ جب لوگوں کے درمیان بیٹھیں گے تو تمام لو گوں پر چھاجائیں گے اور جب چلیں گے تو ایسا لگے گا جیسا کہ پہاڑ سے اُتر رہے ہیں ۔ (بیہقی)
 اور میں (اللہ سے) درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار (احمد  ﷺکی صورت میں ) بخشے گا کہ ابد تک وہ تمہارےساتھ رہے۔ (یوحنا، ب14: 17)// اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گاکیونکہ دنیا کا سردار (محمّد ﷺ) آجائے گا۔ (یوحنا، ب14: 31)
ان اقوال سے واضح ہو رہا ہے کہ جو آنے والا سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے گا، وہ خاتم النبیین ہوگا اور اس کی شریعت قیامت تک رہے گی۔ اس سے مراد آپ  ﷺہی ہیں، کیونکہ آپ  ﷺکی شریعت ہی قیامت تک باقی رہے گی۔ اصل انجیل چونکہ سریانی زبان میں تھی، اس کے تراجم دیگر زبانوں میں ہوئے، انجیل میں کہیں آپ  ﷺکی بشارت تسلی دہندہ (Comforter)کہیں مددگار(Helper) اور کہیں وکیل(Lawyer) اور کہیں شفیع (Patron )کے الفاظ کے ساتھ دی گئی ہے۔ ان سب کا مفہوم احمد ہی سے ادا ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔

888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

صحابیات کی پاکیزہ حیات کا روشن روشن تذکرہ 

 اُم المومنین حضرت جویریہ ؓ

تاریخ گواہ ہے: معزز سردار کی بیٹی کے لیے غلامی قبول کرنا بڑا مشکل تھا 

------------------------حافظ محمدادریس

سیرت کا اہم واقعہ 

 سنہ9ھ کے آخر میں ایک خوب رو ،رعب دار شخصیت کے حامل عرب سردار آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے آتے ہی شکایت کے انداز میں عرض کیا کہ آنحضورﷺ کا ایلچی جو زکوٰة و صدقات وصول کرنے گیا تھا، ان سے ملے بغیر ہی واپس چلا آیا ۔ بعدمیں ان کے قبیلے میں یہ خبر پہنچی کہ آنحضورﷺ اس قبیلے کے خلاف چڑھائی کر دیں گے کیونکہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے زکوٰة کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے ۔ آنحضورﷺ نے معزز سردار کا بڑا احترام کیا اور ان کی وضاحت قبول کر لی۔ اس سردار کی تائید میں سورة الحجرات کی آیت نمبر چھے اور سات نازل ہوئیں ۔ یہ سردار تھے حارث بن ضرار، جو آنحضور ﷺکے صحابیؓ اور سسر بھی تھے ۔ وہ ام المومنین حضرت جویریہ ؓ کے والد گرامی اور قبیلہ بنو مصطلق کے رئیس تھے ۔ آنحضورﷺ کی سیرت میں غزوہ بنو مصطلق بہت اہم واقعہ ہے ۔ اس سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر افک کا بہتان باندھا گیا تھا ۔ اس غزوہ میں آنحضورﷺ کو بنو مصطلق کے مقابلے پر کامیابی ہوئی ۔ آپﷺ فتح اور مال غنیمت کی خوشیاں سمیٹ کر واپس پلٹے لیکن راستے میں منافقین کے اٹھائے ہوئے فتنے نے اہل ایمان کی خوشیاں غم میں بدل دیں ۔

 رئیس زادی 

 اس جنگ کا ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے کہ اس میں قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی جویریہ ( جن کا نام اسلام سے قبل برہ بنت حارث تھا ) بھی جنگی قیدی بن گئیں ۔ ان کے والد سردار تھے اور اپنے قبیلے کے علاوہ دیگر قبائل میں بھی ان کی بڑی عزت تھی ۔ ان کے والد نے ان کی بہت اچھی تربیت کی تھی ۔ وہ آداب مجلس اور فن گفتگو میں بڑی ماہر تھیں ۔ قبیلے کی شکست اور پھر اپنی گرفتاری کے غم سے نڈھال تھیں ۔ انہیں ایک ہی بات سے تسلی ملتی تھی اور وہ یہ کہ فاتحین روایتی قسم کے قبائل سے بالکل مختلف تھے ۔ انہیں ان کا اخلاق و کردار قابل رشک اور ان کے سردار کی سیرت نہایت پرکشش نظر آئی تھی ۔
 معزز سردار کی بیٹی کے لیے غلامی قبول کرنا بڑا مشکل تھا ۔ مال غنیمت اور لونڈیاں تقسیم ہوئیں تو جویریہ مشہور صحابی حضرت ثابت ؓ بن قیس کے حصے میں آئیں ۔ حضرت ثابت ؓ بھی بہت بلند اخلاق انسان تھے ۔ وہ آنحضورﷺ کے مقرر کردہ مشہور خطیب بھی تھے ۔ دیگر قبائل کے خطبا کا موثر جواب دیا کرتے تھے ۔ اللہ نے ان کی آواز میں گرج اور ان کے الفاظ میں جادو بیانی پیدا کر رکھی تھی ۔ انہیں یہ احساس تھاکہ ان کے حصے میں آنے والی لونڈی شریف زادی ہے ۔ حضرت ثابت ؓ خود فقر و فاقہ میں زندگی گزار تے تھے۔

 سوالی بننا 

 جویریہ نے اپنے مالک سے درخواست کی کہ وہ ان سے قیمت وصول کر لیں اور انہیں آزاد کردیں۔ حضرت ثابت ؓ نے رضا مندی ظاہر کی اور قیمت طے ہو گئی ۔ ظاہر ہے حضرت جویریہؓ کے پاس اس وقت ادائیگی کے لیے کچھ بھی نہ تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ اللہ کے رسولﷺ کبھی کسی سوالی کو نامراد نہیں لوٹاتے ۔ ان کے دل میں ایک بار تو یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ سوالی تو خود ہمارے دروازے پر آ کر سوال کیا کرتے تھے اور ہم ان کی جھولی بھرا کرتے تھے ۔ اب میں کیسے سوالی بن کر ہاتھ پھیلاؤں ۔ لیکن حالات کا تقاضا یہی تھا ۔ چنانچہ وہ ہمت کر کے آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔
 آنحضورﷺ سے عرض کیا: ” حضور ﷺمیں مصیبت کی ماری ایک بد حال عورت ہوں ۔آزادی حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔ مالک سے مکاتبت ہو گئی ہے مگر میرے پاس کچھ نہیں ۔ آپﷺ اس مصیبت میں میری مددفرمائیں ۔“ سوال کرنے کا انداز بڑا مہذب و موثر تھا ۔ اللہ کے رسولﷺ جانتے تھے کہ جویریہؓ نجیب الطرفین شریف خاتون ہے ۔ آپﷺ کے پیش نظر قبیلہ بنو مصطلق میں دعوت اسلام کے راستے ہموار کرنا بھی تھا ۔

 قوم کی خوش بخت بیٹی 

 آپﷺ نے فرمایا: ” اگر تم پسند کرو تو میں مکاتبت کی رقم ثابت ؓکو ادا کر دوں اور تم سے نکاح کر لوں ۔“ حضرت جویریہ ؓ کے لیے اس پیش کش سے بڑی اور کیا سعادت ہوسکتی تھی ۔ وہ راضی ہو گئیں ۔ یوں انہیں آزادی بھی ملی اور ام المومنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہو گیا ۔ وہ خوش بخت خاتون تھیں ۔ سعادت ان کا مقدر تھی ۔ ان کے حرم نبوی میں داخل ہوتے ہی تمام انصار و مہاجرین نے بلا توقف اعلان کر دیا کہ اب آنحضورﷺ کے سسرالی رشتے داروں کو قید اور غلامی میں کیسے رکھا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ ایک خاتون کی برکت سے قبیلے کے تمام اسیران کو آزادی مل گئی ۔ اس وجہ سے حضرت جویریہ ؓ کی قدر و منزلت پورے قبیلہ بنو مصطلق میں پہلے سے بھی بڑھ گئی ۔ ساتھ ہی آنحضورﷺ کا مقام و مرتبہ سب کو معلوم ہو گیا۔[جاری]

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

 مائوں ،بہنوں اور بیٹیوں کے لیےخاص الخاص تحفہ :  ماہنامہ’البنات‘        

   اسلامی تاریخ کی عظیم خواتین کی سیرت و سوانح

خواتین …میدان جہاد میں

 پردہ نشینوں نے دنیا میں بڑے بڑے عظیم الشان کارنامے انجام دیئے
جب سے اس دنیا میں اسلامی تہذیب و تمدن کی خوشبو پھیلی تو دنیا کے باغ میں ایک خوش کن بہار آئی، جس میں عورت کا کردار ایک نیا اور خوشگوار رنگ دکھا رہا تھا۔عورت کو دنیا نے جس نگاہ سے دیکھا وہ مختلف جگہوں میں مختلف رہی لیکن جو عزت اور مقام عورت کو اسلام نے دیا ہے وہ نہ تو قومی تاریخ میں ملتا ہے اور نہ ہی دنیا کی مذہبی تاریخ میں۔اسلام نے صرف عورت کے حقوق ہی نہیں مقرر کر دئیے بلکہ انکو مردوں کے برابردرجہ دے کر مکمل انسانیت قرار دیا ہے صحیح بخاری میں ہے:
’’مرد اپنے اہل کا راعی بنایا گیا اور اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا اور عورت شوہر کے گھر کی راعیہ ہے، اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی‘‘۔
اس بنا پر اسلام میں جو عورت کی قدرو منزلت قائم ہوئی ہے، وہ نتائج کے لحاظ سے بھی دیگر تمام اقوام و مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔تمام دنیا اپنی قومی تاریخ پر ناز کرتی ہے لیکن اگر ان سے سوال کیا جائے انکی ان کوششوں میں صنف نازک کا کتنا حصہ ہے تو ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے، بس کہیں کوئی  نام نظر آتا ہے۔ ایسے ہی اگر قومی تاریخ کو چھوڑ کر مذہبی تاریخ کی طرف آئیں تو اسکے اوراق بھی صنف نازک کے عظیم کارناموں سے خالی ہیںلیکن اسلام نے جن پردہ نشینوں کو اپنی آغوش میں پناہ دی ہے، انہوں نے دنیا میں بڑے بڑے عظیم الشان کام انجام دیئے ہیں۔
مذہبی خدمات میں سب سے اہم خدمت جہاد ہے۔ ام عمارۃ ایک مشہور صحابیہ تھیں، غزوۂ اُحد میں شریک تھیں، جب تک مسلمان فتح یاب رہے، مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلا رہی تھیں، لیکن جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے ،تو نبی کریم ﷺکے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں۔حضرت ام عمارہ اُحد کے بعد بیعت رضوان،خیبر اور فتح مکہ میں بھی شریک ہوئی۔حضرت ابو بکرؓ کے دور میں جو جنگ یمامہ جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے ہوئی، اس میں اپنے بیٹے کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئیں۔ اس پا مردی سے مقابلہ کیا کہ بارہ زخم آئے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔ربیع بنت معوذ اور دوسری عورتوں نے شہداء اور مجروحین کو میدان جنگ سے اُٹھا کر مدینہ لانے کی خدمات انجام دیں۔ (صحیح بخاری کتاب الطب) صحابیہ کا ایک خیمہ تھا، جس میں ام رفیدؓ زخمیوں کی مرحم پٹی کرتی تھیں۔ (سنن ابی داوؤد)
ام زیاد اشجعیہ اور دوسری پانچ خواتین نے غزوہ خیبر میں چرخہ کات کر مسلمانوں کو مدد دی، وہ میدان سے تیر اٹھا کر لاتیں اور مجاہدین کو ستو گھول کر پلاتی تھیں۔ (صحیح مسلم)
رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ ؓنے غزوہ خندق میں نہایت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک یہودی، جو مستورات کے قلعے میں داخل ہوا تھا، اسکی گردن اتار کر پھینک دی ،جس سے کسی کو اس قلعے کی طرف آنے کی جرأت نہ ہوئی۔حضرت ام عطیہؓ نے سات غزاوات میں صحابہ کے لیے کھانا پکایا تھا۔ (مسلم کتاب الجھاد باب النساء الغازیات)
اسلام جو مکہ او مدینہ کی سرحدوں سے نکل کر روم ایران شام جیسی سپر پاور سلطنتوں کو تہہ تیغ کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا ،یقیناً ان فتوحات کا سہرا ان بہادر عورتوں کے سر ہے، جنہوں نے ماں ہونے کی حیثیت سے جوان بیٹوں کو خود میدان کارزار کی طرف رخصت کیااور بہنوں نے بھائیوں کو خود تیار کر کے روانہ کیا اور تاریخ میں ایسی سہاگن بھی ملتی ہے کہ جس نے صدائے جہاد پر اپنے شوہر کو شب عروسی کے بعد ہی میدان قتال کو روانہ کر دیا… بہادر مسلمان عورتوں نے دفاع اسلام کی خاطر خود بھی میدانوں کا رخ کیا اور مجاہدین اسلام کو جوش دلانے کے لیے جہادی اشعار کہے ۔جب مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ چھوڑ کر اجنادین کی طرف رخ کیا تو اہل دمشق نے پیچھے سے حملہ کر دیا اور اتفاق سے قیصر روم نے دمشق کی امداد کے لئے جو فوجیں بھیجیں تھیں ،وہ بھی آ پہنچیں اور آگے سے حملہ کر دیا۔ اس سے مسلمانوں میں بد حواسی پھیل گئی۔ عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔خولہ بنت ازور نے کہا:’’بہنو! کیا تم یہ گوارہ کر سکتی ہو کہ مشرکین دمشق کے قبضہ میں آ جائے؟ کیا تم عرب کی شجاعت کے دامن میں داغ لگانا چاہتی ہو؟ اس سے تو مر جانا بہتر ہے‘‘۔ ان چند فقروں نے آگ لگا دی اور عورتیں خیموں کی چوبیں لے کر باقاعدہ ہاتھ باندھ کر صفوں میں آگے بڑھیں اور دفعتا ًتیس لاشیں گرا دیں۔
جنگ یرموک میں جب مسلمان چالیس ہزار کے لشکر سے دو لاکھ رومیوں کے مقابلے میں آئے تو رومیوں کے زور دار حملوں سے لخم و جذام کے قبیلے ،جو عیسائیوں کے ماتحت رہے ،بھاگ کھڑے ہوئے اور رومی تعاقب کرتے عورتوں تک پہنچ گئے، جس سے عورتوں کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ فوراً خیموں سے باہر آئیں اور اس زور سے حملہ کیا کہ رومیوں کا سیلاب رک گیا۔(طبری)
ضرار بن ازور کی بہن خولہ یہ شعر پڑھ کر مسلمانوں کو غیرت دلا رہی تھیں:
اے پاک دامن عورتوں کو چھوڑ کربھاگنے والو !تم موت اور تیر کے نشانہ نہ بنو۔ (اسدالغابہ)
جنگ قادسیہ میں اسلام کی مشہور شاعرہ خنساء اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ شریک تھیں۔ اس بہادر عورت نے اپنے بیٹوں کو یوں جوش دلایا:’’پیارے بیٹو!تم اپنی خواہش سے مسلمان ہو اور تم نے ہجرت کی۔ وحدہ لا شریک کی قسم تم جس طرح ایک ماں کی اولاد ہو ،ایک باپ کے بھی بیٹے ہو۔میں نے تمھارے باپ کے ساتھ خیانت نہیں کی اور نہ ہی تمھارے مامؤں کو ذلیل کیا ہے۔ جو ثواب اللہ نے کافروں سے لڑنے میں رکھا ہے، تم اسے خوب جانتے ہو ۔دنیا فانی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے‘‘۔چنانچہ صبح جنگ چھڑتے ہی خنساء کے چاروں بیٹے دشمن پر جھپٹ پڑے اور بڑی بہادری سے لڑ کر شہید ہوئے۔[اسماء اسلام]

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ( سویڈن) کاقبولِ اسلام

کہتی ہیں:’عورت کی آزادی کا نعرہ خرافات اور جہالت پر مبنی ہے‘

سویڈن کی عالمہ،فاضلہ،داعیہ نومسلمہ کی ایمان افروز کہانی خوداُن ہی کی زبانی 

میں نے ایک کٹر عیسائی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ میری والدہ ہمیں ہر ہفتے چرچ میں لے جانے کی کوشش کرتی تھیں، جبکہ میرے والد ریاضی کے استاد تھے۔ وہ بہت مذہبی نہیں تھے۔ میں اپنی تعلیم کے دوران حیران و پریشان رہا کرتی تھی، کیونکہ محض رسم و رواج اور چرچ میں حاضری کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں ایمانیات اور توحید سے متعلق بعض ایسے سوالات آتے تھے، جن کا جواب چر چ کے پاس نہیں تھا۔ پھر میں نے ناروے کی اوسلویونی یونیورسٹی میں مذہبی علوم کے شعبے میں داخلہ لیا۔ وہاں تاریخ اور تقابل ادیان کے لیے گہری نظر سے مطالعے کے باوجود میں اسلام کے متعلق بدظنی کا شکار رہی۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے میں نے جو کتابیں پڑھی تھیں، وہ صحیح نہیں تھیں، کیونکہ وہ مستشرقین کی لکھی ہوئی تھیں۔ آخر میں مجھے شیخ مودودیؒ کی کتاب ’’دینیات‘‘ پڑھنے کو ملی اور سید قطب مصری ؒ کی ’’معالم فی الطریق‘‘ کا انگریزی ترجمہ ملا، جن سے مجھے اپنے سوالات کا تسلی بخش جوا ب ملا۔ اس کے بعد میں نے ان کتابوں کو پڑھنا شروع کیا، جنھیں مسلمان علما نے لکھا ہے۔ قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ خریدا اور اس کی آیات پر غور و خوض شروع کر دیا۔ جب میں اسلام کے متعلق پوری طرح یک سو اور مطمئن ہوگئی تو اسلام مرکز گئی اور کلمۂ شہادت پڑھ کر اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔
میرے رشتے داروں نے اسے معمول کی بات سمجھ کر کوئی خاص توجہ نہیں دی، لیکن میری چند سہیلیوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا، خصوصاً جب میں نے یونیورسٹی میں حجاب کرنا شروع کر دیا تو بعض دوستوں نے میرے ساتھ بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
نئی چیز ہمیشہ دوسروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتی ہے اور شروع میں یقیناًبعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اب تو پردہ عام ہو چکا ہے۔ مجھے مشکلات کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے دعا کریں او راس راستے میں آنے والے مصائب کو صبر و تحمل سے برداشت کریں۔ الحمد للہ! حجاب کے سلسلے میں کوئی خاص مشکل نہیں ہے۔
میں نے اپنی تمام سہیلیوں کو اسلام کی دعوت دی ہے اور ان میں سے بعض نے اسلام قبول بھی کر لیا ہے، لیکن میری شادی کے بعد کافی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ میرے خاوند مجھ سے کہتے ہیں کہ جب تم نے خیر کو پا لیا ہے تو اسے دوسرے تک بھی پہنچاؤ۔ عربی سیکھنے میں انھوں نے میری بڑی مدد کی۔ الحمد للہ، میرے پاس روزانہ کی مصروفیات تدریس، لیکچرز، ٹیلی ویژن پروگرام او ردیگر پروگراموں میں شرکت پر مشتمل ہیں۔
اولا کی تربیت سب سے اہم کام ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دیگر طلبہ کی طرح ہمارے بچے بھی سویڈش اسکول میں جاتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ آموختہ کرتی ہوں اور ان کے ساتھ گفتگو کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ عربی سیکھنے کے لیے ویڈیو کیسٹ دیکھتے ہیں۔ نمازوں اور ذکر کے اہتمام کے ساتھ سونے سے پہلے ہم انھیں کوئی ایک آدھ اسلامی قصہ سناتے ہیں اور بعض نصیحتیں کرتے ہیں۔ ہر ہفتے کے آخر میں عربی پڑھنے اور سیکھنے کی مشق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ بچوں کے اخلاقی اور تعلیمی امور بہت اچھے ہیں او روہ عربی، سویڈش اور نارویجین، تینوں زبانوں میں گفتگو کر سکتے ہیں۔
عورت مرد کی طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عورت اور مرد یکساں طور پر گھر، اولاد اور دعوت دین کے لیے کام کریں۔ موجودہ زمانے میں ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ گھر عورت کے لیے بنیادی او راہم ذمہ داری ہے، لیکن جاہل عورت کوئی کام بھی صحیح طرح نہیں کر سکتی۔ بچوں کی تربیت کے لیے زندگی اور معاشرے کے تجربات اور مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم و تربیت اور والدین کی خدمت کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ہمارا موجودہ تربیتی نظام خواتین کو مربی اور داعی بنانے کے بجائے انھیں ناکارہ اور پس ماندہ بناتا ہے۔ حالانکہ وہ آنے والی نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہیں۔
میں نے قرآن کا اسکنڈی نیوین زبان میں ترجمہ شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ فریضۂ حج ادا کرنے کی میری نیت ہے اور میں صحابیات کی تقلید کرتے ہوئے مسلمان عورت کی مدد کرنا چاہتی ہوں، تاکہ وہ اپنا فریضۂ منصبی فعال طور پر ادا کرے۔ اللہ میری مدد فرمائے او رہماری تمام کوششوں کو اپنی رضا کے لیے خالص کر دے۔ آمین!
سویڈن میں مختلف قوموں کی مسلمان خواتین رہتی ہیں، جن کا تعلق یورپ، ایشیا، افریقہ، امریکہ اور عرب ممالک سے ہے۔ ہم نے خواتین کی خدمت اور دعوت اسلامی کے کام میں تمام مسلمان خواتین کو شریک کرنے کے لیے ایک متحدہ پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی، تاکہ اس تنظیم کے ذریعے خواتین آسانی سے ہمارے ساتھ رابطہ کر سکیں۔
خواتین لڑکیوں اور بچوں کے لیے ہفتہ وار عربی اور سویڈش زبان میں درس ہوتے ہیں۔ عورت کے مسائل اور ضروریات سے متعلق سیمینار اور ورک شاپس منعقد ہوتی ہیں۔ تربیتی کیمپ اور سالانہ کانفرنس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ عورت کے مسائل، مشکلات اور اس کے حقوق کے دفاع کے لیے کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت مند اور پناہ گزینوں کے لیے ہم فنڈز جمع کرتے ہیں۔
ہماری سرگرمیوں کے نتیجے میں پروگراموں کی نوعیت او رخواتین کی ضرورت کے مطابق اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بوسنیا اور یورپ کی خواتین قرآن و حدیث کی تعلیمات سیکھنے میں دلچسپی لیتی ہیں، عرب خواتین بچوں کی تربیت او رکھانے پکانے سے متعلق لیکچرز میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں، جبکہ صومالی خواتین کی کوشش عربی سیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ میرے خیال میں میاں بیوی کی تعلیمی قابلیت اور مقام ان کے رجحان کی سمت متعین کرتا ہے، لیکن ہماری مسلسل کوشش ہوتی ہے کہ ہم عورت کی مکمل مدد کریں، تاکہ وہ دین کے مطلوبہ مقام تک پہنچ جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کام کے لیے بڑے صبر و ضبط کی ضرورت ہے۔
عورت کی آزادی کا نعرہ خرافات اور جہالت پر مبنی ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ ہم خواتین کو یہ باور کروائیں کہ اسلامی اصولوں کے اندر رہتے ہوئے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں عورت کا کیا کردار ہے، لیکن عورت کو اس اخلاقی دائرے سے باہر لا کر آزادی کی بات کرنا کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کے لیے بیچے یا اپنی اولاد کو مامتا کی محبت سے محروم کر کے انھیں خادموں کے حوالے کرے اور خود دوسروں کی خدمت کرے یہ ہمیں ہر گز منظور نہیں ہے۔ عورت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی عصمت کی حفاظت کرتی رہے۔ اس طرح فطری امنگوں کی تکمیل ہوتی ہے اور خاندان کے افراد میں محبت اور الفت پنپتی ہے اور پورے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔
تسلیمہ نسرین کی سویڈن آمد پر میں نے سویڈن ٹی وی پر تبصرہ کیا تھا۔ تسلیمہ نسرین کا کوئی علمی مقام نہیں ہے۔ ا س نے سیاسی پناہ اور سستی شہرت کے حصول کے لیے مغرب کو استعمال کیا ہے، حالانکہ وہ اپنے مخالفین اور حامیوں دونوں کی طرف سے اس قسم کے اہتمام کی ہر گز مستحق نہیں تھی۔ قرآن پاک اس زمانے کا معجزہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرے گا، چنانچہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ا س طرح کے لوگوں کو اہمیت نہ دیں اور انھیں آزادی اظہار کے ہیرو نہ بنائیں۔ قرآن تو اس لیے آیا ہے کہ وہ غلاموں کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرے، لیکن مسلمانوں کی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے کہ قرآن پاک کو آزادی رائے کے نظریے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے نہ کہ جذبات اور اشتعال کا اظہار کیا جائے۔
مجھے پہلے پاکستان، سوڈان اور الجزائر میں خواتین کانفرس میں شرکت کی دعوت ملی، اس کے علاوہ میں نے تین بین الاقوامی کانفرنسوں عمان، لاہور اور استنبول میں شرکت کی ہے۔ الجزائر میں منعقد ہونے والی خواتین کانفرنس مجھے پسند آئی، جس میں معروف داعیہ زینب الغزالی اور اردن سے سمیرہ نے شرکت کی۔ یہ میری تمنا ہے کہ کارکنان کی فعالیت اور ان کی سرگرمیوں کو مربوط اور فعال بنانے کے لیے خواتین کانفرنسوں کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے، کیونکہ ان کی سرگرمیوں کی موجودہ صورت حال بہت ناتواں ہے اور میرے خیال میں یہ داعی حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خواتین اور بیٹیوں کو اس میدان میں جلد کام کرنے کی ترغیب دیں، تاکہ وہ اسلامی دعوت و تبلیغ کا کام اس طرح انجام دیں، جس طرح وہ اپنی دیگر ضروریات اور مسائل کے لیے کرتی ہیں۔
مجھے عمرہ ادا کرنے سے بہت سکون حاصل ہوا۔ میں مکہ اور مدینہ بار بار جانا چاہتی ہوں۔ جدہ شہر کی ترقی اور جدت بہت پسند آئی، جبکہ اردن میں معاشرتی زندگی اور بالخصوص خواتین کی صورت حال دیگر اسلامی ممالک کی نسبت قابل اطمینان ہے۔ جہاں عورت معاشرے میں اپنا حقیقی کردار ادا کر رہی ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ممالک میں دین بس روایات اور رسم و رواج کا نام ہے، ماسوا اس کے کہ نوجوانوں میں اسلامی احیا اور معمول کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ میں نے یہ دورہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہی کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں نے یہ کام پہلے نہیں کیا تھا، کیونکہ اگر میں عرب اور اسلامی ممالک کا دورہ اس سے قبل کر لیتی تو شاید پھر میں دین پر اتنی سختی سے کاربند رہنے والی نہ بن سکتی، کیونکہ مطالعے کے دوران کتابوں میں میں نے اسلامی افکار، عقیدے اور ثقافت و تمدن کی جو حسین صورت دیکھی تھی، وہ ان ممالک کے لوگوں کی زندگیوں میں مفقود نظر آئی، بلکہ بعض ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آئے، جو بالکل اسلامی روح کے خلاف تھے۔   

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

خواتین کے فقہی و شرعی احکام و مسائل کی آسان تشریح

آپ کے  مسائل اور اُن کا حل

---------------------------جوابات از : علامہ محمد یوسف لدھیانوی ؒ
عورت کے اِخراجات کی ذمہ داری مرد پر ہے
س… کیا اسلام عورتوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ دفتروں میں مردوں کے دوش بدوش کام کریں؟ حالانکہ اسلام کہتا ہے کہ ان کا اصل گھر اور کام گھر میں ہے، جہاں ان کو رہ کر ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں، آخر یہ بات کہاں تک دُرست ہے؟
ج… کماکر کھلانے کی ذمہ داری اسلام نے مرد پر ڈالی ہے، عورتیں اس بوجھ کو اُٹھاکر اپنے لئے خود ہی مشکلات پیدا کر رہی ہیں، اسلام میں کمائی کے لئے بے پردہ ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
بیوی کے اصرار پر لڑکیوں سے قطع تعلق کرنا 
س… میں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی، جس سے تین لڑکیاں ہیں، اور میں نے ان کی شادی بھی کردی، اب میں یہ چاہتا ہوں کہ میری جائیداد میں یہ لڑکیاں حق دار نہ رہیں، اور تعلق تو میں نے پہلے ہی ختم کرلیا ہے، کیونکہ میری بیوی کی خواہش یہی ہے، کیا میرا یہ فیصلہ شریعت کے عین مطابق ہوگا؟
ج… بیٹیوں سے قطع تعلق؟ توبہ کیجئے! یہ سخت گناہ ہے، اسی طرح ان کو جائیداد سے محروم کرنے کی خواہش بھی سخت گناہ ہے۔ خدا اور رسول ﷺ نے جس کو وارث بنایا ہے، بیوی کے اصرار پر اس کو محروم کرنے کی کوشش کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو بیوی خدا اور رسولؐ سے زیادہ عزیز ہے۔
باوجود کمانے کی طاقت کے بیوی کی کمائی پر گزارا کرنا
س… کیا مردوں کو عورتوں کی کمائی کھانے کی اجازت ہے؟ مثلاً: کسی کی بیوی کماکر لاتی ہے اور مرد باوجود تندرستی کے نکما ہے، کماتا نہیں، تو ایسے شخص کو بیوی کی کمائی حلال ہے؟ یا کسی نوجوان کی بہن کماتی ہے اور وہ بیٹھ کھاتا ہے، تو کیا ایسے جوان کو بہن کی لائی ہوئی تنخواہ میں سے خرچ کرنے کا حق ہے؟
ج… عورتوں کے معاش کا ذمہ دار مردوں کو بنایا گیا ہے، مگر عورتوں نے یہ بوجھ خود اُٹھانا شروع کردیا، اور تساہل پسند مردوں کو ایک اچھا خاصا ذریعہٴ روزگار مل گیا، جب عورت اپنی خوشی سے کماکر لاتی ہے اور مردوں پر خرچ کرتی ہے، ان کے لئے کیوں حلال نہیں؟
بیوی کو خرچہ نہ دینا اور بیوی کا رَدِّعمل نیز گھر ...
س… میرے میاں اپنا پیسہ سودی بینک میں مختلف اسکیموں پر لگاتے ہیں اور اس کا منافع ہر مہینے جو ہوتا ہے، اس کو بھی گھر کے خرچ میں لگادیتے ہیں۔ والد صاحب کے سائے سے بچپن سے محروم ہوگئے اور اس زمانے میں لڑکیوں کی شادی ایک مسئلہ ہے، تو پھر میرے گھر والوں نے یہ شادی کردی، میرے میاں کی ملازمت ...بینک میں بہ حیثیت آڈٹ آفیسر ہے، ایک تو بینک کی نوکری اور اُوپر سے سود کی اسکیموں میں لگایا ہوا پیسہ، یہ تمام پیسہ مجھ پر اور میرے بچوں پر خرچ ہوتا ہے۔ ۱-اس پیسے کے کھانے سے میری نماز، میرا کھانا دُرست ہے؟ ۲-اسی پیسے سے میں اپنے زیور کی زکوٰة ادا کرتی ہوں، کیا وہ دُرست ہے؟
ج… سود تو حرام ہے، آپ ایسا کیا کریں، ہر مہینے کسی غیرمسلم سے قرض لے کر گھر کا خرچ چلایا کریں اور آپ کے میاں اپنی رقم سے غیرمسلم کا وہ قرض ادا کردیا کریں۔
مقروض شوہر کی بیوی کا اپنی رقم خیرات کرنا
س… ایک شخص پانچ ہزار روپے کا مقروض ہے، اور یہ قرضِ حسنہ لیا ہوا ہے، اس کی بیوی کے پاس تقریباً تین ہزار روپے کا زیور ہے، اب بیوی چاہتی ہے کہ ۱۵۰۰ روپے کے زیورات بیچ کر گاوٴں میں ایک کنواں کھدوائے، لیکن اس کے میاں کا اصرار ہے کہ یہ پندرہ سو روپے کنویں پر خرچ کرنے کے بجائے میرا قرض ادا کردو، بیوی کہتی ہے کہ یہ میرا حق ہے، میں جہاں چاہوں خرچ کرسکتی ہوں، اس کا ثواب مجھے ضرور ملے گا، اور خاوند کہتا ہے کہ میاں اگر مقروض ہو تو اس کی بیوی کو خیرات کا کوئی ثواب نہیں ملتا۔ اب دریافت طلب یہ بات ہے کہ کیا بیوی اپنے زیورات کو فروخت کرکے اس رقم کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرسکتی ہے یا خاوند کی اطاعت اس کے لئے ضروری ہے؟
ج… اگر زیور بیوی کی ملکیت ہے تو وہ جس طرح چاہے اور جہاں چاہے خیرات کرسکتی ہے، شوہر کا اس پر کوئی حق نہیں۔ لیکن حدیثِ پاک میں ہے کہ عورت کے لئے بہتر صدقہ یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر اور بال بچوں پر خرچ کرے۔ اس لئے میں اس نیک بی بی کو جو پندرہ سو روپے خرچ کرنا چاہتی ہے، مشورہ دُوں گا کہ وہ اپنے سارے زیور سے اپنے شوہر کا قرضہ ادا کردے، اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں گے اور اس کو جنت میں بہترین زیور عطا کریں گے۔
والدین سے اگر بیوی کی لڑائی رہے تو کیا کروں؟
س… میری شادی کو ڈھائی سال ہوئے، ڈھائی سال میں میرے سسرال والوں سے میری معمولی معمولی بات میں نہیں بنتی اور میرے شوہر کے ساتھ بھی ان کے ماں باپ کی نہیں بنتی، ان لوگوں نے مجھے کبھی پیار محبت سے نہیں دیکھا اور میری بیٹی کے ساتھ بھی وہ لوگ بہت تنگ مزاج ہیں۔ بات بات پر طنز کرنا، کھانے کے لئے جھگڑا کرنا، کاروبار ہمارے یہاں مل کر کرتے ہیں اور تمام محنت میرے شوہر ہی کرتے ہیں، الحمدللہ ہمارے یہاں رزق میں بے حد برکت ہے۔ ڈھائی سال کے عرصے میں کئی بار اپنی والدہ کے یہاں آگئی، اور ان لوگوں کے کہنے پر کہ اب کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، بڑوں کا لحاظ کرتے ہوئے والدین کا کہنا مانتے ہوئے میں معافی مانگ کر دوبارہ چلی جاتی، تھوڑے عرصے تک ٹھیک رہتا، پھر وہی حال۔ اس بار بھی میرے شوہر اور ان کے والد میں معمولی بات پر جھگڑا ہوگیا، اور میں مع شوہر اپنی والدہ کے یہاں ہوں۔ میرے شوہر اور میں دونوں چاہتے ہیں کہ ماں باپ کی دُعاوٴں اور پیار محبت سے الگ مکان لے لیں، کاروبار سے الگ نہ ہوں، اس لئے کہ ماں باپ کی خدمت بھی ہو، وہ لوگ دوبارہ بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم کچھ نہیں کہیں گے، جیسے پہلے کہتے تھے۔ آپ بتائیے کہ جب گھر میں روز جھگڑا ہو تو برکت کہاں سے رہے گی؟ آپ ہمیں مشورہ دیں کہ ہم الگ مکان لے لیں، ان مسائل کا حل بتائیے، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے گا، اور میں تازندگی دُعا دیتی رہوں گی، میں بے حد دُکھی ہوں۔
ج… آپ کا خط غور سے پڑھا، ساس بہو کا تنازع تو ہمیشہ سے پریشان کن رہا ہے، اور جہاں تک تجربات کا تعلق ہے اس میں قصور عموماً کسی ایک طرف کا نہیں ہوتا، بلکہ دونوں طرف کا ہوتا ہے۔ ساس، بہو کی ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر تنقید کیا کرتی اور ناک بھوں چڑھایا کرتی ہے، اور بہو، جو اپنے میکے میں ناز پروردہ ہوتی ہے، ساس کی مشفقانہ نصیحت کو اپنی توہین تصوّر کرتی ہے، یہ دو طرفہ نازک مزاجی مستقل جنگ کا اکھاڑہ بن جاتی ہے۔
 آپ کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ اگر آپ اتنی ہمت اور حوصلہ رکھتی ہیں کہ اپنی خوشدامن کی ہر بات برداشت کرسکیں، ان کی ہر نازک مزاجی کا خندہ پیشانی سے استقبال کرسکیں، اور ان کی کسی بات پر “ہوں” کہنا بھی گناہ سمجھیں، تو آپ ضرور ان کے پاس دوبارہ چلے جائیں، اور یہ آپ کی دُنیا و آخرت کی سعادت و نیک بختی ہوگی۔ اس ہمت و حوصلہ اور صبر و استقلال کے ساتھ اپنے شوہر کے بزرگ والدین کی خدمت کرنا آپ کے مستقبل کو لائقِ رشک بنادے گا، اور اس کی برکتوں کا مشاہدہ ہر شخص کھلی آنکھوں سے کرے گا۔ اور اگر اتنی ہمت اور حوصلہ آپ اپنے اندر نہیں پاتیں کہ اپنی رائے اور اپنی “انا” کو ان کے سامنے یکسر مٹا ڈالیں تو پھر آپ کے حق میں بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کے ساتھ الگ مکان میں رہا کریں۔ لیکن شوہر کے والدین سے قطع تعلق کی نیت نہ ہونی چاہئے، بلکہ نیت یہ کرنی چاہئے کہ ہمارے ایک ساتھ رہنے سے والدین کو جو اذیت ہوتی ہے اور ہم سے ان کی جو بے ادبی ہوجاتی ہے، اس سے بچنا مقصود ہے۔ الغرض! اپنے کو قصور وار سمجھ کر الگ ہونا چاہئے، والدین کو قصور وار ٹھہراکر نہیں۔ اور الگ ہونے کے بعد بھی ان کی مالی و بدنی خدمت کو سعادت سمجھا جائے۔ اپنے شوہر کے ساتھ میکے میں رہائش اختیار کرنا موزوں نہیں، اس میں شوہر کے والدین کی سبکی ہے، ہاں! الگ رہائش اور اپنا کاروبار کرنے میں میکے والوں کا تعاون حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
 میں نے آپ کی اُلجھن کے حل کی ساری صورتیں آپ کے سامنے رکھ دی ہیں، آپ اپنے حالات کے مطابق جس کو چاہیں اختیار کرسکتی ہیں۔ آپ کی وجہ سے آپ کے شوہر کا اپنے والدین سے رنجیدہ و کبیدہ اور برگشتہ ہونا، ان کے لئے بھی وبال کا موجب ہوگا اور آپ کے لئے بھی، اس لئے آپ کی ہر ممکن کوشش یہ ہونی چاہئے کہ آپ کے شوہر کے تعلقات ان کے والدین سے زیادہ سے زیادہ خوشگوار ہوں اور وہ ان کے زیادہ سے زیادہ اطاعت شعار ہوں، کیونکہ والدین کی خدمت و اطاعت ہی دُنیا و آخرت میں کلیدِ کامیابی ہے۔

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

داعی قرآن،داعیٔ خلافتڈاکٹراسراراحمد  ؒ 
الحمد للہ بفضل اللہ الحیاتکے ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نمبر  میں اس نابغۂ روزگارہمہ پہلوشخصیت کی حیات و احوال ، دینی افکارو تحقیقات،قرآنی،دعوتی وتحریکی خدمات اور عا مۃ المسلمین ، بالخصوص نوجوان نسل پر احسانات کے متنوع گوشوں کو اُجاگر کرنے کی بھرپور کوشش گئی ہے ۔ نامور اہل علم ، معاصرین،تلامذہ اور متعلقین کےقلم سے432 صفحات پر مشتمل یہ خاص نمبر الحیات کے سابقہ نمبروں کی طرح اپنی انفرادیت لےکر شائع ہوگیا اورچندہی دنوں میں ختم ہوگیا،الحمدللہ ثم الحمدللہ۔اب اس کاتیسراایڈیشن دستیاب ہے۔ vہدیہ     :  صرف120روپے
Call : 9906662404

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

عزت مند ماؤں کی عظمتوں کودیدہ و دِل کے نذرانے

ماں جیسا کوئی نہیں !!!

اللہ کی اِس دُنیا میںسب سے خاص اور حیران کن چیز ماں کا پیار ہے

اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام چلانے کے لیے جو سب سے خاص اور حیران کن چیز بنائی، وہ ماں کا پیار ہے۔ یہ نہ ہوتا تو شاید دنیا آگے ہی نہیں بڑھتی اور ہمارا وجود لاکھوں سال پہلے ختم ہو جاتا۔ ذرا سوچیے، ماں کے دل میں اولاد کے لیے پیار نہ ہوتا تو وہ کیوں بچوں کی پرورش کرتی؟ ماں ہی ہے جو سردی، گرمی، پت جھڑ، دھوپ، چھائوں میں اولاد کو سینے سے لگائے رہتی ہے۔ ماں جتنا پیار دنیا میں کوئی کسی کو نہیں دے سکتا۔
جب بچہ جنم لے، تو ماں اپنے سارے دکھ درد بھول جاتی ہے۔ اپنی ساری تکلیفیں بھلا کر مسکراتی ہے۔ پھر ایک بچے کو بڑا کرنا بھی ماں ہی کا دل گردہ ہے۔ بچے کچھ بھی کر لیں، وہ ناگواری محسوس نہیں کرتی۔ بچہ کھٹا دودھ ٹپکا دے تو ماں کے علاوہ سب ناک بسوریں گے لیکن وہ اس کی بلائیں لیتی منہ صاف کرے گی۔ بچہ بیٹھنا شروع کرے تو ماں محلے میں مٹھائی تقسیم کرتی ہے۔ اٹھنے لگے تو مٹھائی بانٹتی ہے۔ کھڑا ہوا تو شرینی کھلائی جاتی ہے۔ چل پڑے تو ماں کی خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں۔
دراصل ایک ماں کی دنیا بچوں کے گرد ہی گھومتی ہے۔ دنیا میں چاہے کوئی کتنی ہی ترقی کرے، جتنا بھی بڑا افسر بن بیٹھے، ملک کا سربراہ بن جائے، ماں کے لیے وہ بچہ ہی ہے، اس کا چاند اور لعل!
ایک لمحے کے لیے سوچیے، اگر ماں بچوںکو سردی سے نہ بچاتی، خود گرمی میں رہ کر ہماری حفاظت نہ کرتی، بھوکا رہ کے ہمیں نہ کھلاتی، راتوں کو جاگ کر ہمیں نہ سلاتی، تو نسل انسانی شاید آگے نہیں بڑھ پاتی۔ ماں ہی ہے جس کی بدولت ہم چلنے، پھرنے ، باتیں کرنے اور کچھ سننے کے قابل ہوتے ہیں۔ جب بچہ دنیا میں آ جائے تو ماں اپنے لیے کچھ نہیںمانگتی، وہ تو بس اولاد کی بھلائی کے واسطے دعا مانگتی ہے۔
اسے اپنی فکر نہیں ہوتی، بچے ہی اس کا مستقبل ہوتے ہیں۔ کچھ کھانا ہو تو اولاد کی فکر، کچھ خریدنا ہو تو اولاد کی فکر، کہیں جانا ہے تو یہی سوچتی ہے، بچے کہاں جائیں گے، کیسے رہیں گے؟ کئی بار ایسا ہوا کہ گھر میں کوئی پھل آیا تو میری ماں نے اپنا حصہ بھی مجھے کھلا دیا۔ اپنا جوڑا لینے گئیں اور میرے لیے کپڑے لے آئیں۔ ماں بچوں سے اتنا پیار کرتی ہے کہ اسے احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔
کہیں جا رہے ہوں تو ماں بس یہی کہتی ہے: ’’اللہ کے حوالے بیٹا۔‘‘ دیر ہو گئی تو دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے ہی کھل جائے گا اور ماں کے پریشان چہرے پہ اچانک خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔ جب میں اپنی باجی کو بچوں کے ناز نخرے اٹھاتے دیکھوں تو یہی سوچتا ہوں، میری ماں نے بھی کئی پریشانیاں جھیل کر میری پرورش کی ہے۔ جب میری آپی کی بیٹی ہوئی، تو وہ بہت خوش تھیں۔ میں اسے دیکھنے گیا تو سوچ میں پڑ گیا۔ کہنے لگیں ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘۔میں نے کہا ’’آپ بڑی مشکلوں سے اس ننھی گڑیا کو مکمل انسان بنائیں گی۔ کتنی ہی دیر آپ اسے اٹھائے اٹھائے پھریں گی۔‘‘
’’کیوں نہیں بھئی، یہ میرا حصہ، میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ اب ساری زندگی اس کی خوشی ہی میں میری خوشی ہو گی۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔
ہمارے ہاں ایک کام کرنے والی آتی ہے۔ اسے کوئی بھی چیز دیتے تو وہ نہ کھاتی، بس جاتے ہوئے گھر لے جاتی۔ مجھے یہ عادت بہت بری لگی۔ کئی دن میں یہ عمل دیکھتا رہا۔ آخر نہ رہ سکا اور وجہ پوچھ ہی لی۔ کہنے لگی ’’میں بھلا کیسے وہ چیز کھائوں، جو میرے بچوں نے ابھی تک نہ کھائی؟‘‘
میں نے کہا ’’جب بھوک لگی ہو تب تو کچھ کھا لیا کرو۔‘‘
کہنے لگی ’’جب بچے بھوکے ہوں تو اپنی بھوک یاد ہی نہیںرہتی۔‘‘
یہ بے نظیر سچ ہے کہ بچے کو یاد نہ ہو، ماں اس کا خیال ضرور یاد رکھتی ہے۔ ماں تو پیار کا سمندر ہے، ایک بے غرض اور لازوال محبت کرنے والی ہستی!
ایک دن میں نے بیوی سے پوچھا ’’کیا تم ماں سے زیادہ مجھے محبت کر سکتی ہو؟‘‘
وہ ناراض ہو گئی۔ کہنے لگی ’’آپ کو مجھ سے زیادہ محبت کوئی دے ہی نہیں سکتا۔‘‘
میں نے کہا: ’’شاید تم ٹھیک کہتی ہو، لیکن ایک بات ہے، ماں آج تک مجھ سے ناراض نہیں ہوئی۔ چاہے میں بڑی سے بڑی غلطی کر دوں۔ ماں کہتی ہے، بیٹا میری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی، تم رات کو میری دوائی لینے بازار نہ جائو، میرے پاس ہی رہو۔ اور تم کہتی ہو، مجھے نہیںپتا، چاہے رات کے بارہ بجے ہوں، مجھے پیزا کھانا ہے۔ جہاں سے مرضی لے کر آئیں۔ ماں کہتی ہے، اپنا جوڑا لے آتے، میرا کیوں لائے؟ بیوی کہتی ہے، مجھے نہیں پتا، میں نے دو جوڑے لینے ہیں، جیسے مرضی لائو۔‘‘
کئی مائیں سورج نکلنے سے پہلے اٹھ جاتی ہیں تاکہ بچے وقت پہ اسکول پہنچ سکیں۔ اسکول جاتے ہوئے بچے ہزار نخرے کرتے ہیںمگر ماں سب کچھ برداشت کرتی ہے۔ یہ دیکھیے کہ فائدہ کس کا ہے اور پریشان کون ہوتا ہے؟ بعض دفعہ ننھے بچے چھوٹی سی بات پر ناراض ہو کے ماں کی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے خالی پیٹ اسکول چلے جاتے ہیں۔ تب ماں کھانا اٹھائے پیچھے پیچھے جاتی ہے کہ بچہ بھوکا نہ رہے۔ بچوں کے کھانے کی فکر کرنے والی ماں نے خود پتا نہیں کھانا کھایا ہوتا ہے یا نہیں۔
اباجی بتاتے ہیں، ایک دفعہ وہ اپنی ماں جی سے ناراض ہوکر کھانا کھائے بغیر اسکول چلے گئے۔ اسکول تقریباً تین میل دور تھا اور وہ پیدل ہی جاتے۔ سورج سر پہ تھا کہ ماں جی کھانا اٹھائے اسکول پہنچ گئیں۔ کہنے لگیں: ’’پُتر گرمیوں کے دن لمبے ہوتے ہیں۔ میرے لعل، تم سارا دن کیسے گزارو گے؟ چل کھا لے کھانا۔‘‘
یہ واقعہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ذرا تصور کیجیے، گرمی عروج پہ ہے اور ایک ماں کڑی دوپہر میں ناراض بیٹے کے لیے تین میل کا سفر پیدل کھانا لیے جا رہی ہے۔ یہ ماں ہی ہے جو اولاد کی فکر میں سب کچھ بھول جاتی ہے۔ اس کی محبت کے آگے گرمی سردی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ انسان تو انسان، دنیا کی ہر مخلوق میں مادرانہ پیار کا یہ انمول جذبہ پایا جاتا ہے۔ خدا کے دیے ہوئے اسی بیش قیمت جذبے سے شاید دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔
میں چھوٹا سا تھا جب ہمارے گھر میں لگے درخت پر ایک بلبل نے بسیرا بنا لیا۔ یہ بڑا خوبصورت پرندہ ہے۔ اس کے انڈے سے ایک چھوٹا سا بچہ نکلا۔ جب وہ کھانا ڈھونڈنے جاتی تو موقع پا کر میں بچے سے کھیلنے لگتا۔ آہستہ آہستہ وہ بڑا ہو گیا اور پھر میرے ہاتھ نہ آتا۔ ایک دن میں دوڑتے ہوئے اسے پکڑ رہا تھا کہ ہاتھ زور سے لگا اور وہ لنگڑا ہو گیا۔ پھر کچھ دن بعد مر گیا۔ اب اس کی ماں کی بے چینی دیکھی نہ جاتی۔ وہ اِدھر ُادھر اداس گھومتی رہتی۔ ایسے لگتا جیسے بہت پریشان ہے۔ اس کی پریشانی مجھے بھی اداس کر دیتی کیونکہ میں ہی اس کا قصور وار تھا۔ پھر کچھ دن بعد بلبل بھی نظر نہ آئی۔شاید وہ اپنے بچے کا دکھ برداشت نہ کر سکی اور جہان فانی سے رخصت ہو گئی۔
انہی دنوں آپی نے ایک بلی پال رکھی تھی۔ اس کے بچے ہوئے، تو وہ ہر وقت بڑی خوشی سے انھیں ساتھ لیے پھرتی۔ بلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دشمن سے بچانے کے لیے سات گھر بدلتی ہے۔ اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان بچوں کا دشمن ان کا باپ ہی ہوتا ہے۔ بلی اگر چھ یا چار بچوں کو جنم دے اور بلے کو ان کی جائے پیدائش کا علم ہو جائے، تو وہ بچوں میں سے نر چن چن کر کھا جاتا ہے۔ اسی لیے بلی انھیں بچانے کے لیے جگہیں بدلتی رہتی ہے۔
ایک شام بلی کا بچہ گم ہو گیا۔ ہم سب نے اسے بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ بلی ساری رات روتی کراہتی رہی۔ وہ اتنی دردناک آواز سے بولتی کہ ہم بھی ساری رات نہ سو سکے۔ بلی کی پریشانی نے آپی کو بھی متوحش کر دیا۔ صبح ہوئی تو بلی کا بچہ بڑے مزے سے چولھے کے نیچے سے انگڑائی لیتا برآمد ہوا۔ بلی سب کچھ بھول بھال بچے سے لپٹ گئی۔ وہ اسے زبان سے چاٹتی، اس کے گرد گھومتی، شاید پوچھتی ہو ’’کیوں تم نے اپنی ماں کو پریشان کیا؟‘‘
کچھ دن پہلے میں صبح صبح گھر سے نکلنے لگا تو کتے کا ایک چھوٹا سا بچہ دروازے سے لگا ٹھٹھر رہا تھا۔ شاید وہ کہیں پانی میں گر گیا ،اس لیے بھیگا ہوا بھی تھا۔ میں نے اسے حقے کے لیے جلائی آگ کے قریب بیٹھا دیا۔ دھوپ نکلنے تک وہ اچھا بھلا ہو گیا۔ اب اس نے شاید یہیں رہنے کا ارادہ کر لیا اور میرے آگے پیچھے پھرنے لگا۔ بچے اس نئے مہمان کی آمد سے بہت خوش ہوئے۔ لیکن کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ گلی میں بے تاب ماں اسے ڈھونڈ رہی ہے۔
گلی میں آٹھ دس چکر لگا کروہ ہمارے دروازے پہ کھڑی ہو گئی ،جیسے اسے پتا ہو، اس کا گم شدہ بچہ یہیں ہے۔ بچے کو بھی ماں کی آمد کا پتا چل گیا، وہ دوڑتا ہوا دروازے پر آ پہنچا۔ ماں نے دیکھا تو یقین کیجیے، اتنی شدت سے اسے پیار کرنے لگی کہ یہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
کنگارو کی مثال سب سے بڑھ کر ہے۔ جب تک اس کا بچہ جوان نہیں ہوتا، وہ اسے گود میں بٹھائے پھرتی ہے۔ مرغی بڑا شریف پرندہ ہے۔ لیکن اگر کوئی بچوں کے پاس جانے کی کوشش کرے تو وہ اس کی آنکھیں نوچ لیتی ہے۔ جیسے مرغی اپنے بچوںکو پروںمیں سمیٹ کر بیٹھتی ہے، اس طرح دنیا کی ہر ماں اپنے بچوں پہ پیار نچھاور کیے بیٹھی ہے۔[محمد قاسم رضا | ]

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

نا جانے کیوں ہمارا مزاج ہی ایسا بن گیا ہے!!!!

شیخ سعدیؒ نے اپنے بچپن کا واقعہ بیان کیا ہے : ایک دن وہ اپنے والد کے ساتھ تہجد پڑھنے کے لیے اُٹھے۔سرائے میں تمام لوگ سوئے ہوئے تھے۔ انہیں اپنے اوپرفخر محسو س ہوا۔ والد سے کہنے لگے :دیکھیے سب کیسے سوئے ہوئے ہیں۔ ان کے والد نے جواب دیا: ’ایسی بات کہنے سے بہتر تھا، کہ تو بھی سویا رہتا‘۔
نا جانے کیوں ہمارا مزاج ہی ایسا بن گیا ہے کہ ہماری باتیں لوگوںسے شروع ہو کر لوگوں پر ختم ہو جا تی ہیں۔ ایلینور روز ویلٹ کا قول ہے کہ’ بڑے لوگ خیالات کو زیر بحث لاتے ہیں، اوسط درجے کے لوگ واقعات پر گفتگو کرتے ہیں، جبکہ چھوٹے لوگ لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں‘۔ یہ قول ہماری قومی ذہنیت کا کتنادرست عکاس ہے، ہمارا یہ حال ہے کہ just for funغیبت کرتے ہیں ،لوگوں کی برائیاں ٹوہ لگا کرڈھونڈتے ہیںاور پھیلاتے ہیں ،مذاق اڑاتے ہیں۔ خواتین ہوں یا مرد، جہاں چار لوگ اکٹھے ہوئے ،خاندان اورپڑوسیوںکی باتیں شروع ہوئیں۔ بڑی عمر کی خواتین ہیں تو بہوئوں کارونا، کم عمر ہیں تو ساس نندوں کی شکایت،شوہر ہیں تو بیویوںکی برائی۔سرکاری ملازم ہے توافسروں،سیاستدانوں ،پولیس والوں کی برائی۔ غرض کسی نہ کسی بہانے اپنے آپ کومظلوم ثابت کرنا۔ لیکن اگر عمل دیکھا جائے تو ایک بھی مثبت کام نہیں۔
کاش ہم سبھی لوگ:مرد،عورتیں،پیر،جوان اس خطرناک مرض یعنی غیبت سے اپنے آپ کو بھی اور اپنوں اور غیروں کو بھی بچا سکیں،تاکہ ہمارا مولا ہم سے راضی ہوجائے،جس کی ہم سے ناراضگی کی ایک بڑی وجہ ہمارا اپنے مردہ بھائیوں کا گوشت کھاناہے[مدیرہ]

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

4ستمبر’’عالمی یوم حجاب‘‘کی مناسبت سے خاص فیچر

میں پردہ کیوں کروں؟؟

 پردہ کے خلاف مختلف قسم کی تاویلیں، اعتراضات اورمجبوریاں 

  ---------------------------------- اعجازحسن 

پردہ نہ کرنے کی ایک سے ایک گیارہ وجوہات

خواتین کو اسلام نے پردہ کا پابند اس لئے کیا ہے کہ ان کی عزت و عفت پر کوئی حرف نہ آئے۔ جس طرح ملک کی اعلیٰ شخصیات کوبلٹ پروف گاڑی اور حفاظتی دستہ دے کر ان کو قید کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت مطلوب ہوتی ہے، اسی طرح ان گراں قدر موتیوں (خواتین) کو پردہ کے حفاظتی قلعہ میں قید نہیں کیا گیا بلکہ ان کی حفاظت کا سامان کیا گیاہے ۔
ان دنوں بعض آزاد خیال عورتیں پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اسلامی اقدار کو پامال کررہی ہیں۔ ایسی عورتیں مغربی تہذیب کی دلدادہ ہیں اور پردہ کے خلاف درج ذیل قسم کی مختلف تاویلیں، اعتراضات اورمجبوریاں پیش کرتی ہیں۔ آپ پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا یہ واقعی معقول ہیں... !!
(1) میں ابھی تک پردہ کی قائل نہیں ہوں
ایسی خاتون[جوپردہ پر اعتراض کرتی ہے،کچھ سوالوں کے جواب دیکر ] بتائے، کیا وہ بنیادی طور پر اسلام کی حقانیت کی قائل ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب ’ہاں‘ میں ہے کیونکہ اس نے کلمہ طیبہ پڑھ کر اللہ کی معبودیت اور رسولِ کریمﷺ کی رسالت اورشریعت اسلامیہ کا اقرار کیا ہے۔
ہمارا دوسرا سوال محترمہ سے یہ ہے کہ جب آپ اللہ اور رسولﷺکو مانتی ہیں تو اللہ نے اپنے قرآن میں او ر رسولِ کریم ﷺ نے اپنے فرمان میں پردہ کرنے کا حکم دیا ہے تو کیا آپ اللہ اور رسول ﷺکا حکم ماننے کی قائل ہیں؟ یقینا اس کا جواب '’ہاں‘ میں ہوگا تو پھر سچے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم آجائے تو سَمِعْنَا وَاَطْعَنَا( " ہم نے سنا او رمان لیا)" کہا جائے اور حکم پر عمل کیا جائے، وگرنہ زبانی اِقرار کسی کام کا نہیں۔
اللہ عزوجل نے سورة الاحزاب کی آیات ۵۹،۵۳،۳۳،۳۲ اور سورة النور کی آیات ۳۱،۳۳ میں پردہ کا حکم دیا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے اس کی تاکید کی ہے۔مثلاً حدیث ِنبوی ﷺ ہے:’’ "عورت سرتا پیر ستر (چھپانے کی شے) ہے" ‘‘(ترمذی)۔ جو بہن واقعی اسلام کی قائل ہے اورنبی کریم ﷺکی اطاعت کا دم بھرتی ہے ،تو اسے اس سلسلے میں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کرنا چاہئے۔
(2) میں تو چاہتی ہوں مگر میرے گھر والے ...
"اللہ کی تابعداری کے خلاف کسی مخلوق کی تابعداری نہ کرو" (بخاری و مسلم)
اپنے گھر والوں، بزرگوں اور اساتذہ حتیٰ کہ والدین کا حکم آپ صرف اس صورت میں ماننے کی پابند ہیں، جب تک وہ اسلامی احکام کے خلاف نہ ہو۔ قرآن کی آیات اور احادیث ِنبویﷺ کی رو سے اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کے حکم کے مقابلہ میں کسی اور کا حکم ماننا گناہ ہے۔
(3) میرے پاس برقعہ وغیرہ کے لئے پیسے نہیں ہیں
اعتراض کرنے والی ہماری بہن یا تو واقعی سچی ہے یا پھر حیلہ باز ہے اور اس کی مراد فیشن ایبل مہنگا برقعہ یا چادر وغیرہ ہے۔ اگر یہ واقعی سچی اور مخلص ہے تو اسے کم از کم یہ تو معلوم ہوگاکہ مکمل شرعی لباس کے بغیر باہر نکلنا منع ہے۔انتہائی مجبوری میں برقعہ نہ سہی اپنے دوپٹہ/چادر (جو بھی میسر ہو) سے مکمل گھونگٹ نکال کر باہر نکلے۔نیز اہل خیر کو چاہئے کہ جہاں وہ دیگر نیکیاں کرتے ہیں، وہاں مسلم خواتین میں برقعہ/شرعی حجاب/ نقاب وغیرہ بھی تقسیم کریں ،تاکہ جو نہیں جانتے وہ بھی اس کی اہمیت و فرضیت کو جان لیں۔جہاں تک ہماری بہن کا تعلق ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی شخصیت کا وقار زرق برق لباس او رمہنگے برقعہ/فیشن ایبل حجاب یا قیمتی نقاب سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی تابعداری میں ہے۔ اصل عزت دار وہ ہے جو اللہ کے یہاں باعزت ہو۔ فرمانِ الٰہی ہے:’’"تم میں زیادہ صاحب ِعزت اللہ کے ہاں وہ ہے جو زیادہ صاحب ِتقویٰ ہے"‘‘۔ (الحجرات:۱۳)
(4) ہمارے یہاں گرمی زیادہ ہے
ہماری اس بہن کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہئے: "کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ زیادہ گرم ہے، کاش وہ سمجھ لیتے"(التوبہ:۸۱) صرف ٹھنڈے ٹھنڈے، آسان اور مرضی کے احکام ماننے سے جنت کا حصول ممکن نہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے :’’:"جنت کومشکل کاموں میں چھپا دیا گیا ہے اورجہنم کو عیش وعشرت کے کاموں میں‘‘۔"(ابوداود)
(5) مجھے ڈر ہے کہ ایک بار پردہ کرنے کے بعد میں کہیں پردہ کرنا چھوڑ نہ دوں!
دیکھئے ہماری اس بہن کو شیطان نے کیسے اپنے جال میں پھنسایا ہے۔ اگر سوچ کا یہی انداز ہے تو کوئی کبھی نماز نہ پڑھے بلکہ کوئی بھی نیکی کا کام نہ کرے، یقینا نیکی پر ثابت قدمی کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور اس کے لئے وہ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جن سے ثابت قدمی نصیب ہو، مثلاً: نماز کی پابندی اور مشکلات پر صبر کے ساتھ اللہ سے مددمانگی جائے (دیکھئے النساء: ۶۶) نیز یہ دعا کثرت سے کریں : ﴿رَ‌بَّنا لا تُزِغ قُلوبَنا بَعدَ إِذ هَدَيتَنا...٨ ﴾...سورة آل عمران)("اے ربّ! اب جبکہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے تو پھر ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرنا)۔"نیکی میں اخلاص اور عزم پختہ ہو تو اللہ تعالیٰ ثابت قدمی عطا فرماتا ہے۔
(6) مجھ سے کہا گیا’ پردہ کرو گی تو کوئی شادی نہ کرے گا‘
کوئی ہماری اس بہن کو یہ سمجھا دے کہ جو شخص خود اللہ کے احکامات کا پابند نہ ہو، وہ کبھی اچھا شوہر ثابت نہ ہوگا، نہ وہ خود تانکا جھانکی سے پرہیز کرے گا اور نہ تمہیں دوسروں کی نگاہوں کا کھلونا بننے سے روکے گا۔ نیز جس گھر کی بنیاد گناہ پر ہو، وہ گھر دنیا و آخرت کی بربادی سے بچ نہ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل توملتی ہے لیکن آخر کار ایسے گھرانوں کا انجام بہت براہوتا ہے۔ اخبارات بے پردہ گھرانوں کے المناک قصوں سے بھرے ہوتے ہیں اور نگاہ ِعبرت چاہتے ہیں۔
یہ بھی ایک شیطانی خیال ہے ،وگرنہ کتنی باپردہ لڑکیاں ہیں جن کی شادی ہوگئی ہے اور کتنی بے پردہ ہیں، جو شادی کیلئے پریشان ہیں، کیونکہ شادی تو ایک نعمت ہے او راللہ جسے چاہے اپنی نعمتیں عطا کرتا ہے۔
(7) اللہ تعالیٰ نے مجھے حسن کی نعمت سے نوازا ہے، میں کیوں چھپاؤں؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نعمت کے اظہار کی اجازت دی ہے، اگر بطورِ شکر ہو،نہ کہ بطورِ فخر وغرور فرمایا: ﴿وَأَمّا بِنِعمَةِ رَ‌بِّكَ فَحَدِّث ١١ ﴾...( سورة الضحىٰ) یعنی "اپنے ربّ کی نعمتوں کا ذکر کرو"۔
سبحان اللہ! ہماری یہ بہن قرآن کو حجت بنا رہی ہے اور خود قرآن میں پردہ کی پابندی کا حکم دینے والی آیات (النور:۳۱ اور الاحزاب:۵۳،۵۹ وغیرہ) کو پس پشت ڈال رہی ہے اور اگر واقعی اظہارِ نعمت مقصود ہے تو ایمان و ہدایت سے بڑھ کر نعمت کیا ہوگی اور اس نعمت کے اظہار کا تقاضا یہی ہے کہ
اولاً، قرآن و سنت کے ہر حکم پر بلا چوں چرا عمل کیا جائے اور پردہ کو اختیار کیا جائے۔
ثانیاً، جس اللہ نے حسن دیا اسی کے حکم کے مطابق صرف شوہر کے سامنے اس حسن کا اظہار ہوگا، باقی سے پردہ اختیار کیاجائے گا، اور یہی حیا ہے جو ایمان کا زیور ہے او رایمان سب سے بڑی نعمت ہے۔
(8) میں جانتی ہوں کہ پردہ فرض ہے ، جب مجھے توفیق ہوئی میں پردہ کرلوں گی!
یہ بھی ایک عجیب شیطانی وسوسہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھ دے دی کہ پردہ فرض ہے تو اب کس توفیق کا انتظار ہے؟ جب بھی ارادہ کرکے عمل شروع کردیاجائے تو توفیق ہوگئی اور اگر حیلے تراشے جائیں تو پھر ساری زندگی توفیق ہو ہی نہیں سکتی۔
(9) جلدی کیسی! ابھی میری عمر ہی کیا ہے؟ جب حج کرلونگی تو پردہ کرنے لگوں گی!
اے بہن، موت چھوٹے اوربڑے کو نہیں دیکھتی۔ اللہ سے ڈریے ،کہیں آپ کو یہ حیلہ بہانہ کرتے ہوئے بے پردگی یعنی اللہ کی نافرمانی کی حالت میں موت نہ آجائے۔ یاد رہے کہ موت کا فرشتہ آپ کی مرضی کا نہیں بلکہ اللہ کی مرضی کا پابند ہے۔ علاوہ ازیں پردہ پہلے فرض ہے اور حج بعد میں کیوں کہ حج تو استطاعت اور محرم کے ساتھ مشروط ہے۔
(10) ڈرتی ہوں کہ پردہ کرنے سے کسی مخصوص گروہ کی طرف منسوب کردیا جائیگا
اسلام کی نظر میں صرف دو گروہ ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے: ایک '’حزب اللہ‘ یعنی اللہ کا گروہ؛ وہ اہل ایمان جو اللہ اور رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور دوسرا’ 'حزبِ شیطان‘ ' یعنی شیطانِ مردود کا گروہ، وہ لوگ جو حیلے بہانوں سے احکامِ اسلام کا عملاً انکار کرتے ہیں۔ یہ تو خوشی نصیبی ہے کہ آپ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی ،جو کہ ان شاء اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کے جنتی ہونے کی علامت ہے۔ جبکہ جن کی نسبت شیطان کی طرف ہے اور اسی حالت میں وہ مرجائیں تو ان کے جہنمی ہونے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کردیا ہے۔ (دیکھئے سورئہ ص ٓ: ۸۵)
(11) پردہ تو اصل میں دل کا ہے!
اول: نبی اکرم ﷺکی بیویاں اور صحابیاتؓ تو ظاہری پردہ (شرعی پردہ) بھی کیا کرتی تھیں۔ کیا آپ پر کوئی نیا حکم ناز ل ہوا ہے؟ قرآن و سنت میں دل کے پردے کی کوئی دلیل نہیں۔
دوم: پھر کل یہ بھی کہاجائے گا کہ نماز، روزہ، حج، نکاح بلکہ لباس کا پہننا بھی دل کا کام ہے ، تو یوں سارا دین مذاق اور کھیل بن جائے گا۔
سوم: حدیث ِنبوی ﷺ ہے: "بدن میں ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ صحیح ہو توتمام جسم صحیح ہوجاتا ہے اور وہ خراب ہو تو تمام جسم خراب ہوجاتا ہے، خبردار ! وہ دل ہے۔"(بخاری و مسلم) یعنی دل میں جو کچھ ہوتا ہے، اس کا اثر جسم پرمرتب ہوتاہے۔اگر آپ کے دل میں پردہ ہے تو پھر اس کو باہر بھی نظر آنا چاہئے۔ ورنہ آپ اپنے دعویٰ میں سچی نہیں۔
چہارم: حکومت کوئی قانون جاری کرتی ہے۔ آپ اس کی مخالفت کریں اور کہیں کہ قانون کا احترام تو دل میں ہے تو کیا آپ کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا؟ مثلاً آپ ٹریفک کے اشاروں کی پابندی نہ کریں اور ٹریفک کانسٹیبل کے روکنے پر کہیں کہ قانون کا احترام تو دل میں ہے۔ تو کیا وہ آپ کا چالان نہیں کرے گا؟ یقینا آپ کا چالان بھی کیا جائے گا اور جرمانہ بھی کیا جائے گا۔ کیونکہ قوانین کی پابندی صرف دلوں میں نہیں بلکہ ظاہر میں بھی کرنا لازمی ہوا کرتی ہے۔
پردہ کی حکمت
فطری طور پر مردوں میں عورتوں کے لئے رغبت رکھی گئی ہے، جب وہ بے پردہ عورت کا عریاں جسم دیکھتا ہے تو شہوت و رغبت کوپورا کرنے کے لئے اس کی طرف لپکتا ہے۔ آج کل کے اخبارات اس بات پر گواہ ہیں کہ کس طرح مرد، بے پردہ سالی، بھابی، ہمسائی، اجنبی عورت کے ساتھ برے کام میں ملوث ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایئر پورٹ پرایک سیاسی شخصیت نے اپنی ناجائز خواہش کی تکمیل کے لئے ایک ایئرہوسٹس کو سمگلنگ کے جھوٹے الزام میں گرفتار کروا یا ،تاکہ ایئرہوسٹس کو اس تک پہنچایا جاسکے۔
پردہ کے احکامات//پردہ سے رخصت
محرم سے پردہ نہیں ہوگا۔ محرم میں ایسے تمام رشتہ دار شامل ہیں، جن سے کسی عورت کا نکاح دائمی یا عارضی طور پر حرام ہو مثلاً باپ (سسر، دادا، نانا، پڑدادا، پڑنانا وغیرہ) حقیقی بیٹے (داماد، پوتے، پڑپوتے، نواسے ، پڑنواسے وغیرہ) سوتیلے بیٹے اور ان کی اولاد، بھائی (حقیقی و سوتیلے اوران کی اولاد)، بھتیجے، بھانجے، حقیقی چچا، حقیقی ماموں...
٭ رضاعی رشتہ داروں سے (جو رشتے نسب سے حرام ہیں، وہی رضاعت یعنی دودھ پلانے کے لحاظ سے بھی حرام ہیں)//٭ بچوں سے، جب تک ان کے شہوانی جذبات بیدار نہ ہوئے ہوں۔//٭ نوکر چاکر سے جب تک وہ ہم بستری کی خواہش نہ رکھتے ہوں مثلاً بچے یا بوڑھے۔ ان سب سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔//٭ اضطراری حالت (طبی معائنہ، جنگ، حادثہ مثلا ً زلزلہ، آگ وغیرہ) میں پردہ کرنے کی چھوٹ ہوسکتی ہے۔//٭ بوڑھی عورتیں جو زیب و زینت سے دور رہیں اور ان کو کسی مرد سے خطرہ نہ ہو تو ان کے لئے پردہ نہ کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر پردہ کریں تو بہتر ہے۔
نوٹ: مندرجہ بالا جن لوگوں سے پردہ کی رخصت ہے، ان کے سامنے بھی ستر کو ڈھانپنا ہوگا (سوائے شوہر کے) یعنی ان کے سامنے صرف چہرہ او رہاتھ کھولنے کی اجازت ہوگی۔ گھر کے کام کاج مثلاً آٹا گوندھتے ہوئے کف اوپر کرنے یا فرش دھوتے ہوئے پائینچے اوپر چڑھا لینے کی گنجائش ہے۔
٭ مسلمان عورت ، دوسری عورت سے بھی ستر چھپائے گی جیسا مرد مسلمان مرد سے چھپائے گا۔
پردہ کی پابندی
تمام نامحرم رشتہ دار (دیور، جیٹھ، بہنوئی، چچا زاد بھائی، خالہ زاد بھائی، ماموں زاد بھائی، شوہر کا بھتیجا یابھانجا وغیرہ) سے، غیر رشتہ دار (شوہر کا دوست، سہیلی کا شوہر وغیرہ) سے ، ہیجڑوں سے، اور غلط قسم کی آوارہ اور مشتبہ مسلم اور غیر مسلم خواتین سے پردہ کرنا ہوگا۔

میں پردہ کیوں نہ کروں؟؟

پچھلے صفحات میں آپ نے پیدائشی مسلمان عورتوں کے حجاب پر اعتراضات اور حیلے بہانے دیکھ لیے۔اب آپ نو مسلم خواتین کے حجاب سے متعلق تاثرات ملاحظہ فرمائیں،اور فرق خود محسوس کریں۔لائق صد آفرین ہیں مشرق و مغرب کی و ہ بین الاقوامی شہرت یافتہ خواتین،جنہوں نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد حجاب کے دفاع میں لاجواب دلائل پیش کرکے مغرب کو ہلا کر رکھ دیا۔افسوس ! کہ پیدائشی مسلمان عورتیں اب بھی پردہ کو دقیانوسیت سمجھتی ہیں۔ چند عالمی ہستیوں کے تاثرات:
عالمی شہرت یافتہ مریم جمیلہ لکھتی ہیں:
 ’’یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہ نام نہاد سیکولر اور آزاد خیال ممالک کپڑے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے (سکارف) سے خائف ہیں، جس سے مسلمان عورتیں اپنے چہرے کا پردہ کرتی ہیں، حتیٰ کہ ان ممالک میں پبلک مقامات پر عورتوں کو نقاب پہن کر جانے پر جرمانہ عائد کرنا شروع کر دیا ۔یہ اصل میں نقاب نہیں ،نقاب کے پیچھے مسلمان عورت کا نورانی چہرہ ہے، جس کی ایمانی حرارت سے یہ لوگ خائف ہیں۔‘‘
برطانوی صحافی ایوان ریڈلی کہتی ہیں :
طالبان کی قید سے شہرت پانے اور قرآنی تعلیمات سے متاثر ہو کر ایمان قبول کرنے والی نامور برطانوی صحافی ایوان ریڈلی کہتی ہیں کہ: ’’ فرانس میں حجاب پر اس لئے پابندی لگی ہے کہ وہاں کی خاتون اوّل کی عریاں تصاویر نیٹ پر موجود ہیں، یہ بات ان کو بری لگتی ہے کہ جب ہم سارے زمانے کیلئے موجود اور دستیاب ہیں تو یہ مسلمان عورت کیوں حجاب میں رہے۔‘‘
سابق ایکٹریس سارہ بوکرکہتی ہیں :
ایک راسخ العقیدہ عیسائی گھرانے میں پرورش پانے والی، ایکٹریس ،ماڈل ، ٹیچر اور سیاسی کارکن سارہ بوکر 9/11کے بعد اسلام قبول کرکے حجاب اختیار کرتی ہے ۔اپنے ایک انٹرویو میں کہتی ہیں:’’مجھے اپنے اسلام قبول کرنے اور حجاب پہننے کے فیصلے پر کوئی ندامت نہیں۔ مَیں نے فلوریڈا کے جنوبی ساحل پر تیراکی کے لباس اور مغرب کی گلیمرانہ زندگی کو اس لئے چھوڑا کہ مَیں اپنے خالق کی مرضی کے مطابق زندگی گزاروں اور انسانوں میں ایک انسان کی حیثیت سے رہوں۔ یہ وجہ ہے کہ مَیں نے حجاب کا انتخاب کیا۔ مَیں مرتے دم تک اپنے حجاب کے حق کا دفاع کرتی رہوں گی۔آج حجاب خواتین کی آزادی کا جدید نشان ہے۔‘‘--حجا ب زندہ با د
محترمہ خولہ نکاتا (جاپان) لکھتی ہیں:
’’"منی سکرٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ اگر آپ کو میری ضرورت ہے تو مجھے لے جاسکتے ہیں، جبکہ حجاب صاف طور پر یہ بتاتا ہے کہ 'میں آپ کے لئے ممنوع ہوں۔اپنامذہب تبدیل کرنے سے پہلے بھی کسی عورت کے جسم کو دیکھنا، جو اس کی جلد سے چپکے ہوئے باریک لباس سے جھلکتا تھا، مجھے پریشان کردیتا تھا، مجھے محسو س ہوتا تھا کہ میں نے کوئی ایسی شے دیکھ لی جس کو مجھے دیکھنا نہیں چاہئے تھا۔ اگر یہ بات ایک عورت کو پریشان کرسکتی ہے تو مردوں کو کتنا متاثر کرتی ہوگی۔"
محترمہ لیلی لیسالوت و تمان (امریکہ) کہتی ہیں:
’’" جب میں حجاب استعمال کرنے لگی تو مجھے امن و امان کا سایہ مل گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ پردہ کے باعث تمام لوگ میرا احترام کرنے لگے ہیں۔اب مجھے کوئی تنگ نہیں کرتا تھا، نہ سڑک پر، نہ بس وغیرہ پر‘‘۔"
محترمہ ہدیٰ خطاب(برطانیہ) کا کہنا ہے:
’’"جو چیز مجھے اسلام کی طرف کھینچ لائی، وہ پردہ تھا۔ مسلمان خواتین کا یہ سکارف اورلباس غیر مردوں کی نظر یں عورت کی طرف سے ہٹا دیتا ہے‘‘۔"[’نو مسلم خواتین کے مشاہدات‘ ]
نیکی کی تم تصویر ہو، عفت کی تم تدبیر ہو!// ہو دیں کی تم پاسباں، ایمان سلامت تم سے ہے!
میں پردہ اس لیے کرتی ہوں کہ ...
’’میری پھوپھی کہا کرتی ہیں کہ اگر آپکے سامنے مالٹے پڑے ھوں تو آپ کوئی خاص توجہ نہیں دو گے لیکن اگر انھیں چھیل کر آپ کے سامنے رکھا جائے تو آپ فوراً اُنہیں کھانے کو لپکیں گے، بالکل اسی طرح بغیرحجاب کے عورت لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ھے-
یہ حکم ربی ہے۔ جب ہم نے کلمہ پڑھ لیا تو اطاعت اور بندگی کا وعدہ کرلیا۔ اس کی بجا آوری کے لئے ضروری ھے کہ کوئی وجہ وضاحت مانگے بغیر اپناسر تسلیم خم کریں اور اس پر عمل کریں۔ سب سے بڑی وجہ جب عورت پردے میں ہوتی ھے تو کوئی بھی آدمی بری نظر نہیں ڈالتا، کیونکہ آگے پردے کی دیوار ھے۔ گویا پردہ ایک قلعہ ھے۔لہذا باپردہ خواتین بلا جھجک اپنے ہر کام کے لئے ہر جگہ آجاسکتی ھے۔ پردہ اُس کا محافظ ھے ۔ اگر ہم پردے کے بغیر ہونگے کہ کپڑے کا رنگ اور زیور دکھائی دے گا ، تو کوئی بھی شخص لالچ میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
بے پردہ خواتین کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہیں کہ’’" آؤ مجھے پڑھو‘‘، "جب کہ پردہ دار خاتون ایک بند کتاب ہے۔ عورت کو اپنی شخصیت پر اتنا تو اختیار ہونا چاہئے کہ کوئی اُس پر بری نظر ڈال کر اُس کی توہین نہ کرے۔اس کا بہتر حل یہ ہے کہ عورتیں پردے میں نکلیں۔ پردے میں ہماری عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے ۔جب ہم پردے میں باہر نکلتی ہیں تو بری نظر سے بچ جاتی ہیں۔ جب پردہ میں ہمارے لئے نعمت رکھی ہے، تو پھر ہم کیوں بے پردہ ہوکرخودکو رسوا کریں؟ پردہ ہی تو ہے جو آج کی عورت کے شرم و حیا کی علامت ہے ۔جلال و احترام کی چادر،حسن و جمال کا سب سے خوبصورت تاج اور ادب و کمال کی سب سے بڑی دلیل ہے اور خدا کی طرف سے عورت کے لئے تحفہ عظیم ہے ۔ہم پردے میں اپنی زینت چھپا سکتی ہیں۔ ہم پردہ کرکے ہی زمانے اور شرپسند لوگوں کی نظروں سے بچ سکتی ہیں‘‘۔ 

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

سیاہ حلقے ختم کرنے کے 6 گھریلو ٹوٹکے

گھر کے اندر مختلف قسم کی گھریلو چیزوں کے استعمال کے آسان نسخے 
-------------------------------- ---------------    اخذوترتیب:اُمّ زینب (ادارۂ تحریر)
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں (Dark Circles) سے خواتین اور مرد دونوں ہی متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں تناؤ، نیند کی کمی، ہورمونل تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہاں ہم آپ کو چند گھریلو ٹوٹکے بتارہے ہیں، جس سے ان حلقوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
ٹماٹر
ٹماٹر سیاہ حلقوں سے نجات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے کیوں کہ یہ قدرتی طور پر نہ صرف انہیں ختم کرتا ہے بلکہ آپ کی جلد کو ملائم بھی بناتا ہے۔ آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ ایک چمچہ ٹماٹر جوس کو ایک چمچہ لیموں کے جوس میں ملاکر آنکھوں کے نیچے لگالیں اور اسے 10 منٹ تک لگے رہنے دیں۔ بعد میں اسے پانی سے صاف کرلیں۔ ایسا دن میں دو مرتبہ چند روز تک جاری رکھیں۔
آلو
آلوؤں کو چھیل کر ان کا جوس نکال لیں۔ پھر اس جوس میں روئی کے ٹکڑے کو بھگو کر آنکھوں کے نیچے رکھ دیں اور اس بات کو یقینی بنالیں کہ تمام سیاہ حصہ روئی سے ڈھکا ہوا ہو۔ بعد میں ٹھنڈے پانی سے اسے صاف کرلیں۔
ٹی بیگز
ایک ٹی بیگ (گرین ٹی بیگ ہو تو زیادہ بہتر ہے)کو پانی میں بھگو کر فرج میں رکھ دیں۔ بعد میں اسے اپنی آنکھوں پر رکھ دیں۔ اس عمل کو بار بار کرنے سے بہترین نتائج مل سکتے ہیں۔
ٹھنڈا دودھ
دودھ کے روزانہ کی بنیادوں پر استعمال سے نہ صرف آپ کی آنکھوں کے حلقے ختم ہوں گے بلکہ آپ کی جلد بھی بہتر ہوجائے گی۔ روئی کا ایک ٹکڑا لیجئے اور اسے ٹھنڈے دودھ کے ایک پیالے میں بگھودیں۔ اب اسے اپنی آنکھوں پر لگائیں اور اس بات کو یقینی بنالیں کہ تمام متاثرہ حصے پر یہ سہی طرح سے لگ جائے۔ تھوڑی دیر اسی طرح رکھیں اور پھر چہرے کو پانی سے صاف کرلیں۔ d۝c   
سماجی زندگی کے کھٹے میٹھے واقعات وحقائق پر مبنی تجربہ

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

کہاوتوں کی کہانیاں​

  ---------------------------------------------رؤف پاریکھ
بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا​
لنڈورا یعنی دم کٹا۔ مطلب یہ کہ کسی کام میں نقصان ہو جائے تو مزید نقصان سے بچنے کے لئے اس کام کو چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی چالاک شخص اپنی چکنی چپڑی باتوں سے کسی کو دھوکا دینا چاہے اور وہ اس سے ایک دفعہ نقصان اٹھا چکنے کی وجہ سے دوبارہ اس کی باتوں میں نہ آئے۔
اس کا قصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک بلی نے ایک چوہے کو پکڑنے کے لئے چھلانگ لگائی۔ چوہا جھکائی دے کر بچ نکلا مگر پھر بھی بلی نے جاتے جاتے ایک پنجہ مار کر اس کی دم اکھیڑ لی۔ چوہا جان سلامت لے کر بل میں پہنچا تو خدا کا شکر ادا کیا اگرچہ اسے لنڈورا ہونے کا بے حد دکھ تھا۔ بلی بہت کائیاں تھی۔ اس نے ہاتھ آیا شکار جو یوں جاتے دیکھا تو ایک چال چلی۔ چوہے کے بل کے پاس جاکر بولی، "ارے بھانجے، تو تو مجھ سے خواہ مخواہ ہی ڈر گیا۔ میں تو تیری خالہ ہوں۔ تجھ سے مذاق کر رہی تھی۔ چل آ باہر آ! تیری دم جوڑ دوں۔ لنڈورا بہت برا معلوم ہوگا۔" مگر چوہا بھی بہت سیانا تھا۔ بلی کی نیت بھانپ کر بولا، "بخشو بی بلی میں لنڈورا ہی بھلا۔"
آپ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں​
مطلب یہ کہ جس سے فائدہ پہنچے گا ہم اس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے۔ یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی خوشامدی موقعے کے مطابق کسی بڑے کی ہاں میں ہاں ملائے اور اس کی اپنی کوئی رائے نہ ہو۔
اس کی کہانی یہ ہے کہ ایک بادشاہ کا وزیر بہت خوشامدی تھا۔ بادشاہ جو بھی کہتا وزیر فورا اس کی تائید کرتا۔ ایک دن بادشاہ نے کہا، "بیگن بہت اچھی ترکاری ہے۔"
وزیر کہنے لگا، "سرکار، بینگن کے کیا کہنے ہیں۔ ذائقے دار، خوبصورت۔ ترکاریوں کا بادشاہ ہے۔ حکیموں کا کہنا ہے بینگن کئی بیماریوں کا علاج ہے۔"
اگلے دن بادشاہ کسی اور موڈ میں تھا۔ بادشاہوں کا تو یہی حساب ہوتا ہے کہ پل میں ماشہ پل میں تولہ۔ کہنے لگے، "بینگن بری ترکاری ہے۔"
وزیر نے فورا ہاں میں ہاں ملائی اور بولا، "جی حضور، بینگن بھی بھلا کوئی ترکاری ہے۔ کالا منہ ہے۔ نہ شکل ہے نہ ذائقہ۔ حکیموں کا کہنا ہے کہ بینگن کھانے سے خون میں خرابی ہوجاتی ہے۔"
بادشاہ نے حیران ہو کر کہا، "کل جب میں بینگن کی تعریف کر رہا تھا تو تم بھی تعریف کر رہے تھے اور آج میری دیکھا دیکھی بینگن کی برائی کر رہے ہو؟"
وزیر نے جواب دیا، "جہاں پناہ، میں آپ کا نوکر ہوں بینگن کا نہیں۔"
الٹی گنگا بہانا​
اس کہاوت کا مطلب ہے عقل کے خلاف بات کہنا یا رواج کے خلاف کرنا۔ جب کوئی شخص ایسی بات کہے جو بالکل الٹی اور کم عقلی کی بات ہو یا ناممکن ہو تو ایسے موقع پر یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
اس کہاوت کی کہانی یہ ہے کہ ایک عورت بہت ضدی تھی۔ اس کا شوہر اس سے جو کہتا وہ اس کے برعکس کام کرتی۔ ایک روز شوہر نے تنگ آ کر کہا، "تم اپنی ماں کے گھر چلی جاؤ۔"
وہ بولی، "ہرگز نہیں جاؤں گی۔"  //  شوہر نے کہا، "اچھا مت جاؤ۔"
کہنے لگی، "ضرور جاؤں گی۔"  //  شوہر بولا، "کل جانا۔"
بولی، "ابھی اور اسی وقت چلی جاؤں گی۔"  //  شوہر نے کہا، "خود ہی جاؤ اکیلی۔"
کہنے لگی، "تم چھوڑنے چلو گے، اکیلی تو ہرگز نہیں جاؤں گی۔"
مجبوراً شوہر اس کے ساتھ ہولیا۔ دونوں چلے۔ راستے میں دریائے گنگا پڑتا تھا۔
شوہر نے کہا، "تم ٹھہرو میں کشتی لاتا ہوں۔"//عورت بولی، "کشتی نہیں چاہئے۔ میں تیر کر جاؤں گی۔"
شوہر نے اسے بہت سمجھایا کہ پانی گہرا ہے اور بہاؤ بھی تیز ہے، مگر اس ضدی عورت نے ایک نہ مانی اور پانی میں کود پڑی۔ ظاہر ہے ڈوبنا تو تھا ہی۔ پانی میں غوطے کھانے لگی اور پانی کے تیز بہاؤ کے ساتھ بہتی ہوئی جانے لگی۔ شوہر نے یہ دیکھا تو اسے بچانے کے لیے دوڑا، مگر بہاؤ کے ساتھ دوڑنے کے بجائے بہاؤ کی مخالف سمت کنارے کنارے بھاگنے لگا۔ ایک شخص یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔ اس نے پوچھا، "وہ پانی کے ساتھ بہہ کر نیچے کی طرف گئی ہوگی، تم بہاؤ کے الٹ اوپر کیوں اسے پکڑنے جا رہے ہو؟"
اس پر اس نے جواب دیا، "تم اسے نہیں جانتے۔ وہ بہت ضدی ہے۔ یہاں بھی الٹی گنگا بہائے گی۔"  

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

موٹاپا سے بچانے میں مددگار 16 غذائیں

 طرز زندگی میں تبدیلی سے شخصیت میں جادوئی تبدیلی لائی جاسکتی ہے
اموٹاپا کس کو پسند ہوتا ہے ؟ یہ نہ صرف ظاہری شخصیت کو تباہ کردیتا ہے بلکہ یہ امراض کی جڑ بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے ذیابیطس، بلڈپریشر، امراض قلب اور فالج غرض کہ لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اور یہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ موٹاپا اب ایک عالمی وباءبن چکا ہے مگر وزن میں کمی کا کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ طرز زندگی میں تبدیلی ہی سے آپ اپنی شخصیت میں جادوئی تبدیلی لاسکتے ہیں۔
تاہم کیا آپ کے خیال میں کم کھانا ہی جسمانی وزن کم کرنے کا بہترین طریقہ ہے ؟ تو ایسا بالکل نہیں درحقیقت اپنی پلیٹوں کو پھلوں، سبزیوں، نٹس اور دیگر سے بھر کر آپ چربی گھلانے کا عمل زیادہ تیز کرسکتے ہیں۔ایسی ہی غذاؤں کے بارے میں جانے جن کا استعمال آپ کو موٹاپے سے بچاؤ یا جسمانی وزن میں کمی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
سیب
کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو دور رکھے مگر یہ موٹاپے سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سیب میں ایک کیمیکل پیسٹین موجود ہوتا ہے جو آپ کے خلیات میں موجود چربی کی مقدار کو اتنا کم کردیتا ہے کہ اسے ہضم یا جذب کرنا آسان ہوجاتا ہے جبکہ سیب کم کیلیوریز کے ساتھ پیٹ بھرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے جس سے موٹاپے کا امکان خودکار طور پر کم ہوجاتا ہے۔
سبز چائے
مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق سبز چائے میں موجود اجزاءمیٹابولز کو بہتر بناتے ہیں جس کے نتیجے میں جسمانی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ گرم مشروب ہماری غذا میں شامل گلوکوز سے توانائی خارج کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں چربی کو گھلانے میں مدد ملتی ہے۔
گریپ فروٹ
یہ مانا جاتا ہے کہ چربی کے خلاف مزاحمت کرنے والی منفرد کیمیائی خصوصیات کی بناءپر یہ پھل موٹاپے پر قابو پانے کے لیے بہترین ہے۔ وٹامن سی سے بھرپور اس پھل سے انسولین کی سطح میں کمی میں مدد ملتی ہے جس کے نتیجے میں جسم میں چربی کو جمع ہونے سے روکنے میں مدد ملتی ہے اور جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
سویا بین
سویابین میں لیکیٹین نامی جز پایا جاتا ہے جو خلیات کو چربی جمع کرنے سے روکتا ہے۔ یہ ایک ڈھال جیسا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں چربی آپ کے خلیات میں جمع نہیں ہوپاتی جبکہ یہ جز جسم میں پہلے سے موجود چربی کے ذخیرے کو ٹکڑے کرکے ہضم میں بھی مدد فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں موٹاپے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
جو
جو کے دلیے کا ناشتے میں استعمال معمول بنالیا جائے تو کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔ اس میں شامل فائبر چربی کو گھلانے میں مدد دے کر میٹابولزم کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے اور جنک فوڈ کا استعمال کم ہوجاتا ہے۔
لہسن
لہسن میں ایک جز الیسین شامل ہوتا ہے جس کے بارے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں ان خلیات کی کارکردگی بہتر اور تحفظ ملتا ہے جو چربی کے ذخائر کو گھلانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لہسن کا غذا میں استعمال چربی کو گھلا کر مرد و خواتین کو توند نکلنے کی مشکل سے بچانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
سوپ
اگر بے وقت کچھ کھانے کو دل کرے تو سوپ کا ایک پیالہ بہترین ہے جو چربی کو تیزی سے جلاتا ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق سوپ کا استعمال بے وقت کی بھوک کو دبانے کا بہترین ذریعہ ہے کیونکہ یہ اپنے سیال اور ٹھوس اشیاءکی بناءپر بھوک کا احساس ختم کردیتا ہے۔ اسی طرح سوپ کا استعمال کھانے سے پہلے کرنے سے لوگوں کے اندر معمول سے کم غذا کھانے کی خواہش ہوتی ہے یعنی کم کیلوریز ان کے جسم کا حصہ بنتی ہیں اور صاف ظاہر ہے موٹاپے میں کمی آنے لگتی ہے۔
ناشپاتی
موٹاپے کی شکار خواتین ایک دن بھر میں تین چھوٹی ناشپاتیاں کھائیں تو ان کے جسمانی وزن میں کچھ عرصے بعد نمایاں کمی آتی ہے۔ اس پھل کو کھانے والے عام طور پر زیادہ کیلیوریز اپنے جسم کا حصہ نہیں بناتے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی میٹھی چیز کی خواہش ہورہی ہو تو چینی سے بنی شے کی بجائے ناشپاتی کا استعمال بہترین ثابت ہوتا ہے جس میں کیلیوریز کم ہوتی ہیں جبکہ فائبر بہت زیادہ ہوتا ہے جو پیٹ کو جلد بھر دیتا ہے۔     بلیو بیریز:
وٹامن سی کے حصول کا بہترین ذریعہ سمجھے جانے والی بلیو بیریز موٹاپے کی روک تھام کے لیے زبردست تصور کی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق وٹامن سی کا زیادہ استعمال جسمانی وزن کو متوازن رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
بادام
ایک تحقیق کے مطابق اپنی غذا میں باداموں کا اضافہ پیٹ بھرنے کا احساس بھی بڑھاتا ہے اور ممکنہ طور پر وزن میں اضافے کی روک تھام بھی کرتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا ہے جو لوگ میٹھی اشیاءکے مقابلے میں باداموں کو ترجیح دیتے ہیں ان کے پیٹ میں جمع ہونے والی چربی جلد گھلتی ہے اور کمر کی موٹائی میں کمی آتی ہے۔
اخروٹ
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ تیس گرام اخروٹ کھانا کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بناتا ہے اور موٹاپے کے خطرے سے نجات دلاتا ہے۔ یہ پھل ذیابیطس کے شکار مریضوں کے لیے بھی بہترین ہے جو خون میں گلوکوز کی مقدار معمول پر رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
کیلے
کیلے میگنشم کے حصول کا بہترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ جز توانائی کی پیداوار اور اعصابی افعال کو معمول پر رکھنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پٹھوں میں لچک کو بھی فروغ دیتا ہے اور جسم کو انسولین کے استعمال میں مدد بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ میگنشیم کیلشیئم کو جذب کرنے اور اس کی سطح متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے جو جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہت اہم ہے۔
دالیں
جو لوگ بھی جسمانی وزن یا چربی میں کمی کے خواہشمند ہیں دالیں ان کے لیے بہترین آپشن ہے، کم کیلیوریز اور فیٹ کے ساتھ دال کی آدھی پلیٹ سے نو گرام پروٹین ملتی ہے جس سے جسم میں باڈی بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اسی طرح یہ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی روک تھام کے لیے بہترین غذا ہے۔
پالک
اگرچہ پالک چربی کو جلاتا نہیں مگر یہ جسمانی وزن میں ضرور مدد فراہم کرتا ہے۔ اس میں کیلیوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور تازہ پالک کا استعمال جسم کو اضافی فائبر فراہم کرتا ہے جس سے پیٹ جلد بھرنے کا احساس ہوتا ہے اور موٹاپے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
پانی
جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سترہ اونس پانی کے استعمال سے میٹابولک کی شرح میں تیس فیصد اضافہ ہوجاتا ہے جو کہ کیلیوریز کو جلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ پانی پینا آپ کی پیاس کو بھی بجھاتا ہے اور اس طرح پیاس کو بھوک سمجھنے کی غلطی کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔
دار چینی
دار چینی میں شامل اجزاءچربی کو گھلانے کا عمل تیز کردیتے ہیں جس کی وجہ میٹابولزم کو تیز کردینا ہے۔ یہ مصالحہ توند کو کم کرنے مین مددگار ثابت ہوتا ہے جبکہ یہ بلڈ شوگر کی سطح کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے جس کے نتیجے میں بے وقت بھوک نہیں لگتی اور آپ جنک فوڈ استعمال کرکے جسمانی وزن میں اضافے سے بچ جاتے ہیں۔    


88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

 والدین اپنی اولاد میں فرق نہ کریں!!

ہمارے ہاں ایک المیہ یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد میں فرق کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو بچہ زیادہ خوبصورت، ذہین، فرمانبردار اور محنتی ہو، وہ اس سے زیادہ محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس شکل و صورت میں ذرا کم نظر آنے والے، کم ذہین، سوال کرنے والے اور اطاعت نہ کرنے والے بچوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہی بچے عدم توجہی کا شکار ہو کر برائی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
 سقراط نے کہا ہے:’’بے وقوف شخص وہ ہے جو سوئے ہوئے فتنے کو جگا دے۔ جو معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا سکتا ہو ،اُسے لڑائی جھگڑے تک پہنچا دے‘‘۔
والدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی اولاد ان کے لئے برابر ہے۔ اگر وہ اولاد کے معاملے میں عدل سے کام نہیں لیں گے، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی بازپرس ہوگی۔ اولاد میں عدل کا طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی پہلو سے کمزور بچے کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔ انسان فطری طور پر اچھے بچوں کو زیادہ محبت دیتا ہے۔ جب وہ شعوری طور پر کمزور بچے کی طرف زیادہ توجہ دے گا تو اس کے نتیجے میں اس کی محبت اور توجہ خود بخود بیلنس ہو جائے گی۔
 جسمانی اعتبار سے معذور بچے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ والدین کو ان پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ ان کے لئے خصوصی کھیلوں اور خصوصی تعلیم کا انتظام کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔
 اولاد کے بالغ ہونے کے بعد والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت، شادیوں اور کاروبار پر رقم اس انداز میں خرچ کریں کہ اولاد کو یہ احساس نہ ہو کہ والد نے مجھے کم اور بھائی یا بہن کو زیادہ دے دیا۔[مبشرنذیر]

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888

  معروف دانشورغلام علی گلزارکی نئی کتاب سے اقتباس

’نسوانیت کا استحصال‘

اہل مشرق نےکئی پہلوؤں سے قابل مذمت طریقہ کار اپنا رکھا ہے

حدیث کی رُو سے تمام کتابوں میں بطریق شیعہ و سنی، عورت کی خصوصی حیثیت اور اس کے مخصوص حقوق کے بارے میں روایات موجود ہیں، مثال کے طور پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حدیث رسولﷺ،حضرت عائشہؓ کی روایت سے ہے کہ فرمایا رسول اکرمﷺ نے کہ جس کسی مرد یا عورت پر بیٹیوں کی پرورش کی ذمہ داری آ چکی ہے، اگر وہ مہربانی کے ساتھ اُن سے بر تاؤ کرے، وہ جہنم کی آگ سے اُس کے حق میں سپر ثابت ہونگی، کئی ذرائع سے من جملہ بخاری و مسلم ایک واقعہ حضرت نعمان بن بشیر کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ نے اُس کے حق میں اس کے والد کے ’ھبہ نامہ‘ پر گواہ رہنے سے انکار کر دیا جس کے ذریعے، اُس کی والدہ کے اصرار پر، نعمان کے والد نے بیٹیوں کو نظر انداز کر کے اپنی جائیداد نعمان کے نام کر دی تھی۔ اس موقع پر رسول اکرمﷺ نے فرمایا، ’میں نا انصافی کے نوشتہ کا گواہ نہیں رہوں گا‘۔
کتاب حدیث ’الکافی‘ کے حوالہ سے حضرت امام جعفر صادقؑ کی نقل کردہ حدیث رسول ﷺ کی رُو سے، ایک مرد کے لئے ہدایت دی گئی ہے کہ کسی عورت سے نکاح کے وقت اس کو ان الفاظ میں اِعادہ کر نا چاہئے، کہ اُس نے اللہ کو حاضر و ناظر مان کر قسم کھائی ہے کہ وہ ہونے والی بیوی کے ساتھ مناسب برتاؤ کر ے گا، اور اگر طلاق کی نوبت ناگزیر ہو جائے، اُس صورت میں اِس کو مہربانی اور احسان کے ساتھ الگ کر دے گا‘، یہ کسی صورت میں جائز نہیں ہے کہ ایک شخص بیوی کو معطل حالت میں رکھے، نہ بسالے نہ طلاق دے!
قرآن سورۃ النساء کی آیت ۵۳ میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان (کسی) تضاد کو حل کر نے کے لئے ہدایات جاری فرمائی ہیں کہ ’ایک مُنصف کو مرد کے خاندان سے اور ایک کو عورت کے خاندان سے مقرر کر دو، اگر وہ دونوں معاہدہ صلح کرنا چاہیں، اللہ میاں بیوی کے درمیان تسلیم و آشتی کو فروغ دے گا، چنانچہ بعض شرائط کے ساتھ اسلام کے اندر دونوں مرد اور عورت کو حق طلاق (مرد کی طرف سے طلاق دینا عورت کی طرف سے خُلع حاصل کرنا) سے نوازا ہے۔ عورت کے لئے اسلام نے پردہ (حجاب) کو ضروری قرار دیا ہے، اگرچہ اس کی شکل و طریقہ کے بارے میں ماحول، جغرافیہ اور قومیات کے مطابق اختلاف پایا جاتا ہے، البتہ قرآن و سنت کی رُو سے غالب نظریہ یہ ہے کہ عورت کے لئے بالوں اور جسم کو چھپانا وجوبی ہے، چہرہ کی گولائی اور کلائی سے نیچے ہاتھوں کو کھلا رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بعض حلقے آنکھوں اور اس کے ارد گرد کے کچھ حصہ کے کھلا رکھنے کی حد پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ پردہ کا بنیادی مقصد اس کے قواعد کی پیروی کر کے عصمت کی حفاظت ہے، اس سے خواتین کی نسبت احترام کا احساس بھی اُبھرتا ہے اور مردوں کے اندر ضبط کا احساس بھی نکھرتا ہے۔[جاری]  

88888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888888


No comments:

Post a Comment